سیرت النبی ؐ — Page 76
سے پر دل کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کر کے دیکھو کہ کس یقین اور توکل کے ماتحت وہ مسیلمہ کو جواب دیتا ہے کیا کوئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرات اور دلیری کو کام میں لاسکتا ہے کیا تاریخ کسی گوشت اور پوست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہو ادکھا سکتی ہے اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کی زندگی سے مقابلہ کرنا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے اگر آپ کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے تو انبیاء سے مگر جوشان آپ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ آپ کوسب انبیاء پر فضیلت ہے۔اس جگہ یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کو جواب دیتے وقت رسول کریم سی ایم کے یہ مدنظر نہ تھا کہ آپ حکومت کے حق کو اپنی اولاد کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کا انکار توکل علی اللہ کے باعث نہیں بلکہ اپنی اولاد کی محبت کی وجہ سے قرار دیا جاتالیکن رسول کریم نے اپنی اولا د کو اپنے بعد اپنا جانشین نہیں بنایا بلکہ حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا انکار کسی دنیاوی غرض کے لئے نہ تھا بلکہ ایک بے پایاں یقین کا نتیجہ تھا۔اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کذاب کی مدد حاصل کرنا بظا ہر مذہبی لحاظ سے بھی مضر نہ تھا کیونکہ اگر وہ یہ شرط پیش کرتا کہ میں آپ کی اتباع اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ فلاں فلاں دینی باتوں میں میری مان لیں تو بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ اپنی بات کی بیچ کی وجہ سے آپ نے اس کے مطالبہ کا انکار کر دیا لیکن اس نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ وہ مذہب میں تبدیلی چاہتا تھا۔پس آپ کا انکار صرف اس تو کل اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپ کو خدا تعالیٰ پر تھا۔76