سیرت النبی ؐ — Page 72
تھے جو ایک معمولی آدمی کے دل میں موجزن ہوتے ہیں۔آپ کے محسوسات اور محرکات ہی اور تھے آپ نے خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا اور اس کے فضلوں کی وسعت کو جانتے تھے۔آپ کو یقین تھا کہ میں اپنے پیچھے اگر مال چھوڑ کر نہیں جا تا تو کچھ حرج نہیں میری وفات کے بعد میرے پسماندگان کا ایک نگران ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی جو کبھی غافل نہیں ہوتا جو اپنے پیاروں کو ان کی مصیبتوں کے وقت کبھی نہیں چھوڑتا جو ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تیار رہتا اور ضرورتوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے پورا کرنے کے سامان کر دیتا ہے خدا تعالیٰ کے وسیع خزانوں کو دیکھتے ہوئے آپ اس بات کو ایک سیکنڈ کے لئے پسند نہیں کر سکتے تھے کہ اپنے پسماندگان کے لئے خود کوئی سامان کر جائیں خدا پر آپکو تو کل تھا اور اس پر بھروسہ کرتے تھے اور یہ وہ تو کل کا اعلیٰ مقام ہی تھا کہ جس پر قائم ہونے کی وجہ سے دنیا داروں کے خلاف آپ کی توجہ بجائے دنیاوی سامانوں کے آسمانی اسباب پر پڑتی تھی۔مسیلمہ کا دعوی :- جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں رسول کریم کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہل دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کام میں آپ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا گویا کہ توکل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیاء میں ملتی ہے نہ آپ کے بعد آپ کے سے تو کل والا کوئی انسان پیدا ہوا ہے۔مسیلمہ کے نام سے سب مسلمان واقف ہیں اس شخص نے رسول کریم سنی یا یتیم کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت میں سخت مقابلہ کیا تھا اگر چہ رسول کریم صلی یا اسلام کے زمانہ میں 72