سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 69

کہ ان کے لئے کسی سامان کے مہیا کرنے کی مجھے ضرورت ہے اس لئے آپ نے اپنی اولاد کے لئے اس رقم میں سے کوئی حصہ ہی مقرر نہ کیا۔اللہ اللہ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت ہوتی ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنی اولا د اور رشتہ داروں کے لئے کچھ سامان کر جائیں لیکن آپ نے نہ صرف خود ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنی اولاد کے لئے زکوۃ میں سے کوئی حصہ نہ مقرر کیا بلکہ ان کو بھی خدا پر توکل کرنے کا سبق سکھایا اور انہیں حکم دے دیا کہ تمہارے لئے اس مال سے فائدہ اٹھانا ہی ناجائز ہے۔زکوۃ کے علاوہ لوگ اپنے پاس سے صدقات دیتے ہیں ممکن تھا کہ سادات کو وہ اس میں شریک کر لیتے لیکن رسول کریم صلی یا تم نے اپنی اولا د کو اسی تو کل کا سبق دینا چاہا کہ اسے صدقات سے بھی محروم کر دیا اور زکوۃ وصدقہ دونوں کی نسبت حکم دے دیا کہ میری اولا د اور اولاد کی اولاد کے لئے زکوۃ وصدقہ لینا نا جائز ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِا لَتَمَرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَيَجِيئُ هَذَا بِتَمَرِهِ وَهَذَا مِنْ تَمَرِه حَتَّى يَصِيْرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَانِ بِذَلِكَ التَمْرِ فَاَخَذَا أَحَدُهُمَا تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَهَا مِنْ فِيهِ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَلَ مُحَمَّدٍ لَا يَا كُلُوْنَ الصَّدَقَةَ ( بخارى كتاب الزكوة باب اخذ صدقة التمر عند صرام النخل) کھجور کے کٹنے کے وقت رسول کریم سی سال نیم کے پاس کھجوریں لائی جاتی تھیں۔ہر ایک اپنی اپنی کھجوریں لاتا تھا اور رسول کریم صلی یہ نام کے آگے رکھ دیتا یہاں تک کہ آپ کے پاس ایک ڈھیر ہو جا تا۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ان کھجوروں سے کھیلنے لگے اور ان میں سے ایک نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔پس ان کی طرف رسول کریم نے دیکھا اور کھجور 69