سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 68

اور وہ لوگ جو کسی سبب سے اپنی حوائج کو پورا کرنے سے قاصر ہوں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا ابناء السبیل کو مدد دی جاتی ہے۔اس کے محصلوں کی تنخواہ بھی اس میں سے ہی نکلتی ہے غرض کہ محتاجوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شریعت اسلام نے یہ قاعدہ جاری کیا ہے اور اس میں بہت سے ظاہری اور باطنی فوائد مد نظر ہیں لیکن اس کا ذکر بے موقع ہے۔زکوۃ کے علاوہ جو ایک وقت مقررہ پر سرکار کے خزانہ میں داخل ہو کر غرباء میں تقسیم کئے جانے کا حکم ہے صدقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہر ایک ذی استطاعت کو مناسب ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنے غریب بھائیوں کی دستگیری کرے اور حتی الوسع ان کی امداد میں دریغ نہ کرے۔رسول کریم صلی یہ تم کے زمانہ میں اور بعد میں بھی جب تک اسلامی حکومت رہی چونکہ زکوۃ با قاعدہ وصول کی جاتی تھی اس لئے ایک کثیر رقم جمع ہو جاتی تھی اور خزانہ شاہی کی ایک بہت بڑی مدتھی اور اگر رسول کریم سانی پیتم چاہتے تو اپنی اولاد کے غرباء کا اس رقم میں سے ایک خاص حصہ مقرر کر سکتے تھے جس کی وجہ سے سادات ہمیشہ غربت سے بچ جاتے اور افلاس کی مصیبت سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جاتے لیکن رسول کریم کے سینہ میں وہ دل تھا جو تو کل علی اللہ سے پر تھا اور آپ کی توجہ غیر اللہ کی طرف پھرتی ہی نہ تھی اس قدر تم کثیر خزانہ میں آتی تھی اور تھی بھی غرباء کے لئے کسی کا حق نہ تھی کہ اس کی تقسیم ظلم سمجھی جاتی۔ایسی حالت میں اگر آپ اپنی اولاد کے لئے بصورت غربت ایک حصہ مقرر کر جاتے تو یہ بات نہ لوگوں کے لئے قابل اعتراض ہوتی اور نہ کسی پر ظلم ہوتا۔لیکن وہ باغیرت دل جو آپ کے سینہ میں تھا اور وہ متوکل قلب جو آپ رکھتے تھے کب براشت کر سکتا تھا کہ آپ صدقہ و زکوۃ پر اپنی اولاد کے لئے صورت گزارہ مقرر کرتے۔پھر آپ کو تو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ان کا متکفل ہوگا اور خود ان کی مدد کرے گا۔آپ کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں آ سکتا تھا 68