سیرت النبی ؐ — Page 256
مخالفت آپ کی ہوئی اور جو تکلیف آپ کے دشمنوں نے آپ کو دی وہ اس حد کی تھی کہ اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی تکلیف نہیں پیش کی جاسکتی لیکن باوجود اس کے کہ آپ کے مخالفوں نے ہر طرح سے آپ کو دق کیا اور تئیس سال متواتر بلا وجہ آپ کو دکھ دیتے رہے اور ان کے ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہ تھا اور حضرت مسیح کے زمانہ کی طرح کوئی حکومت نہ تھی جس کے قانون سے ڈر کر اہل مکہ رسول کریم صلی یمن کو ستانے میں کوئی کمی کرتے اور وہ قوم بھی حضرت مسیح کی قوم سے زیادہ سخت تھی لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی یا ایلم کے منہ پر کبھی گالی نہیں آئی۔ایک دو دن کی تکلیف ہو تو تب بھی کوئی بات تھی۔سب کہہ سکتے تھے کہ آپ نے جبر کر کے اپنے آپ کو روکے رکھا۔ایک دو ماہ کی بات ہوتی تب بھی کہہ سکتے تھے کہ تکلیف اٹھا کر خاموش رہے ایک دو سال کا معاملہ ہوتب بھی خیال ہوسکتا تھا کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی زبان کو بند رکھا لیکن تئیس سال کا لمبا عرصہ جو تکالیف ومصائب سے پر تھا ایک ایسا عرصہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی انسان کا ان تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے اور ان عداوتوں کو دیکھتے ہوئے جو آنحضرت سلیلا پیلم کو دیکھنی اور برداشت کرنی پڑیں ہر قسم کی سخت کلامی سے پر ہیز کرنا اور کبھی مخش گوئی کی طرف مائل نہ ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ انسان کوئی عجیب انسان تھا اور نہ صرف عام انسانوں سے برتر تھا بلکہ دوسرے نبیوں پر بھی فضیلت رکھتا تھا۔کیونکہ جہاں اس نے اپنے آپ پر قابورکھا وہاں دوسرے نبی بھی نہ رکھ سکے۔مجھے اپنے اس بیان کے لئے کسی ایک واقعہ سے استدلال کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملہ میں ایک ایسے شخص کی شہادت موجود ہے جو دس سال متواتر آپ کے ساتھ رہا اور یہ حضرت انس ہیں وہ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَانًا، وَلَا 256