سیرت النبی ؐ — Page 255
کے وقت انسان سے اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔صرف گالی دینے والے کے لئے ان خیالات کا اس سے پتہ چلتا ہے جو وہ اس کے متعلق رکھتا ہے جسے گالی دیتا ہے۔غرض گالی دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہاں ایک پر غضب طبیعت کے جوش کا اظہار اس سے ہو جاتا ہے مگر پھر بھی اکثر لوگ غضب میں گالیاں دیتے ہیں چنانچہ بعض لوگ جو عام طور پر نرم طبیعت رکھتے ہیں جب ان کو بھی غصہ آ جائے تو اپنے مخالف کے حق میں گالی دے دیتے ہیں اور جب کسی شخص سے سخت تکلیف پہنچے تب تو بڑے بڑے صابروں کے منہ سے بھی گالی نکل جاتی ہے چنانچہ مسیح ناصرٹی جیسا صابر انسان جس کی زندگی اس کے صبر اور اس کی استقامت پر دلات کرتی ہے اور جس نے اپنے دشمنوں سے بڑی بڑی سخت مصیبتیں برداشت کر کے بھی ان کے حق میں کوئی سخت کلمہ نہیں کہا۔اسے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقعہ پر جب اس کے دشمنوں کی شرارت حد کو پہنچ گئی اور حملہ پر حملہ انہوں نے اس پر کیا تو آخر تنگ آکر ایک دن اسے بھی اپنے دشمنوں کے حق میں کہنا پڑا کہ سانپوں کے بچے مجھ سے معجزہ طلب کرتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح کے مخالف تھے وہ انسانوں کے بچے تھے لیکن ان کی شرارتوں نے حضرت مسیح کو اس قدر دق کیا کہ آخر تنگ آکر ان الفاظ میں انہیں اپنے غصہ کا اظہار کرنا پڑا۔اسی طرح ایک دفعہ اپنے حواریوں سے جو ایک دفعہ ان کو سخت تکلیف پہنچی تو اپنے ایک حواری کو انہوں نے شیطان کے لفظ سے یاد کیا حالانکہ وہ وہی حواری تھا جسے انہوں نے خود اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا تھا۔غرض حضرت مسیح کی مثال سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ کبھی بڑے سے بڑا صابر انسان بھی دشمن کی شرارت سے تنگ آکر ایسی گالی دے بیٹھتا ہے۔لیکن ہمارے آنحضرت صلا ایام کواللہ تعالی نے وہ شان عطا فرمائی تھی کہ آپ کی زبان پر کبھی گالی نہیں آئی حالانکہ جو 255