سیرت النبی ؐ — Page 193
ہی خطرناک اور مضر معلوم ہوتا ہو آپ بے دھڑک اسے اختیار کر لیتے تھے جبکہ آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس سے لوگوں کے حقوق کی نگہداشت ہوتی ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا کہ باوجود اس بات کے آپ کو ایسا رعب و داب میسر تھا جو دنیا کے کسی بادشاہ کو میسر نہیں۔واقعہ میں ایک بادشاہ کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سکھ پہنچائے اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ آپ دین و دنیا کے لئے ایک کامل نمونہ تھے اور آپ کی زندگی دنیاوی بادشاہوں کے لئے بھی نمونہ ہے کہ بادشاہوں کو اپنے ماتحتوں اور رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور کس طرح ضد اور تعصب سے الگ ہو کر ہر ایک قربانی اختیار کر کے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ہمیں اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماتحتوں پر اسی وقت بادشاہ کے حکم بدل دینے کا برا اثر پڑتا ہے جب کہ ان کو یہ یقین ہو کہ بادشاہ ہمارا یقینی خیر خواہ نہیں بلکہ اس نے ڈرکر اپنے حکم میں تبدیلی کی ہے اور جب انہیں یقین ہو کہ اس کے احکام ایک غیر مستقل طبیعت کا نتیجہ ہیں لیکن اگر انہیں اس بات کا کامل یقین ہو جائے کہ کوئی بادشاہ یا حاکم ان سے ڈر کر یا بے استقلالی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے حکم بدلتا ہے کہ وہ انکا خیر خواہ ہے اور کسی وقت بھی ان کی بھلائی سے غافل نہیں ہوتا تو بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں بے رعبی پیدا ہو وہ اس سے اور بھی مرعوب ہو جاتے ہیں اور ان کے دل محبت سے بھر جاتے ہیں اور جو بادشاہ اپنی رعایا اور ماتحتوں کے دلوں میں اپنی خیر خواہی کا ایسا یقین بٹھادے وہی سب سے زبر دست بادشاہ ہے اور یہی خیال تھا جس نے کہ ابو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو مجبور کیا کہ بجائے اس خیال کے کہ یہ سمجھیں کہ آنحضرت سایا ہی تم سے کسی قسم کی بے استقلالی ظاہر ہوئی ہے انہوں نے جنگ کے لئے پیدل جا نا منظور کیا مگر یہ نہ پسند کیا کہ آپ کو دوبارہ قسم (193