سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 105

اور انسان کو پیش نہیں آتے۔دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں ایک وہ جو عسر میں نہایت بدخلق ہو جاتے ہیں دوسرے وہ جو ئیسر میں چڑ چڑے بن جاتے ہیں۔رسول کریم پر یہ دونوں حالتیں اپنے کمال کے ساتھ وارد ہوئی ہیں اور دونوں حالتوں میں آپ کے اخلاق کا اعلیٰ رہنا ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا جو تکلیفیں اور دکھ آپ کو پہنچے ہیں وہ اور کونسا انسان ہے جسے پہنچے ہوں مکہ کی تیرہ سالہ زندگی کے حالات سے کون نہیں واقف ، مدینہ کے ابتدائی ایام سے کون بے خبر ہے، کن شدائد کا آپ کو سامنا ہو ا، کن مشکلات سے پالا پڑا ، دوست دشمن ناراض تھے۔رشتہ دار جواب دے بیٹھے، اپنے غیروں کی نسبت زیادہ خون کے پیاسے ہو رہے تھے ، ملنا جلنا قطعا بند تھا، ایک وادی میں تین سال محصور رہنا پڑا ، نہ کھانے کو نہ پینے کو جنگل کے درخت اور بوٹیاں غذا بنیں ،شہر میں آنا منع ہو گیا، پھر چمکتی ہوئی تلواریں ہر وقت سامنے نظر آتی تھیں، رؤساء سے قیام امن کی امید ہوتی وہ بھی مخالف ہو گئے ، بلکہ نوجوانوں کو اور اکسا اکسا کر دکھ دینے پر مائل کرتے رہے، باہر نکلتے ہیں تو گالی گلوچ تو کچھ چیز ہی نہیں پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے، اپنے رب کے حضور گرتے ہیں تو اونٹ کی اوجھڑی سر پر رکھ دی جاتی ہے، حتی کہ وطن چھوڑ دیتے ہیں۔پھر وطن بھی وہ وطن جس میں ہزاروں سال سے قیام تھا، اپنے جدا مسجد کے ہاتھوں سے بسایا ہو ا شہر جس کو دنیا کے ہزاروں لالچوں کے باوجود آباء واجداد نے نہ چھوڑ ا تھا، ایک شریروں اور بد معاشوں کی جماعت کے ستانے پر چھوڑنا پڑتا ہے، مدینہ میں کوئی راحت کی زندگی نہیں ملتی بلکہ یہاں آگے سے بھی تکلیف بڑھ جاتی ہے، ایک طرف منافق ہیں کہ خود آپ کی مجلس میں آکر بیٹھتے ہیں اور بات بات پر سنا سنا کر طعنہ دیتے ہیں، آپ کے سامنے آپ کے (105)