سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 104

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے اس قول اور شہادت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اول تو وہ ہر وقت رسول کریم کی صحبت میں رہتے تھے اور جو اکثر اوقات ساتھ رہے اسے بہت سے مواقع ایسے مل سکتے ہیں کہ جن میں وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس شخص کے اخلاق کیسے ہیں۔کبھی کبھی ملنے والا تو بہت سی باتیں نظر انداز بھی کر جاتا ہے بلکہ کسی بات پر بھی یقینی شہادت نہیں دے سکتا۔لیکن جنہیں ہر وقت کی صحبت میسر ہو اور ہر مجلس میں شریک ہوں وہ خوب اچھی طرح اخلاق کا اندازہ کر سکتے ہیں پس عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہیں رسول کریم کے ساتھ رہنے کا خاص موقع ملتا تھا اور جو آپ کے کلام کے سننے کے نہایت شائق تھے ان کا ایسی گواہی دنیا ثابت کرتا ہے کہ درحقیقت آپ کوئی ایسی شان رکھتے تھے کہ عسرویسر میں اپنے اخلاق کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرتے تھے۔ورنہ کبھی تو آپ کے ہر وقت کے ہم صحبتوں کو ایسا موقع بھی پیش آتا کہ جس میں آپ کو کسی وجہ سے چیں بہ جبیں دیکھتے لیکن ایسے موقع کا نہ ملنا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے اخلاق نہایت اعلیٰ اور ا رفع تھے اور کوئی انسان ان میں نقص نہیں بتا سکتا تھا۔ایک طرف اگر عبداللہ بن عمرو کی گواہی جو اعلیٰ پایہ کے صحابہ میں سے تھے نہایت معتبر اور وزنی ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی خاص طور سے مطالعہ کرنے کے قابل ہے کہ یہ فقرہ کس شخص کی شان میں کہا گیا ہے معمولی حیثیت کے آدمی کی نسبت اور معمولی واقعات کی بناء پر اگر اس قسم کی گواہی کسی کی نسبت دے بھی دی جائے تو گو اس کے اخلاق اعلیٰ سمجھے بھی جائیں مگر اس شہادت کو وہ اہمیت نہیں دی جاسکتی جو اس شہادت کو ہے اور وہ شہادت ایک معمولی انسان کے اخلاق کو ایسا روشن کر کے نہیں دکھاتی جیسی کہ یہ شہادت رسول کریم صلی ایم کے اخلاق کو کیونکہ یہ اخلاق جن واقعات کی موجودگی میں دکھائے گئے ہیں وہ کسی 104