سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 101

رات دن یہی ہو کہ وہ لوگوں کو بدیوں سے رو کے اور امر بالمعروف کرے۔اسے تو اپنے اعمال میں بہت محتاط رہنا ہی پڑتا ہے ورنہ اس پر الزام آتا ہے اور لوگ اسے طعنہ دیتے ہیں کہ تم دوسروں کو منع کرتے ہو اور خود اس کام کو کرتے ہو لیکن اگر غور کیا جائے تو دنیا میں وعظ کہنے والے تو بہت ملتے ہیں مگر ایسے واعظ جو اپنے نمونہ سے دنیا میں نیکی پھیلا میں بہت کم ہیں ایسے واعظ تو اس وقت بھی ہزاروں ہیں جولوگوں کو پاکیزگی اور انقطاع الی اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔لیکن کیا ایسے لوگوں کی بھی کوئی کثیر جماعت پائی جاتی ہے جو خود عمل کر کے لوگوں کے لئے خضر راہ بنہیں إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ کسی شاعر نے کہا ہے اور بالکل سچ کہا ہے کہ ؎ ہر کسے ناصح برائے دیگراں ہر ایک دوسروں کے لئے ناصح ہے اپنے نفس کا حال بھلائے ہوئے ہے پھر ایک شاعر کہتا ہے واعظان کیں جلوہ برمحراب و منبر میکند - : - چوں بخلوت میروند آن کار دیگر میکنند یہ واعظ جو محراب و منبر پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کے لئے ناصح بنتے ہیں جب خلوت میں جاتے ہیں تو ان کے اعمال بالکل اور ہی ہوتے ہیں اور ان اعمال کا پتہ بھی نہیں چلتا جن کا وعظ وہ منبر پر سے کیا کرتے تھے اس وقت مسلمان علماء کو دیکھو۔قرآن شریف کو ہاتھ میں لے کر خشیت الہی کے وعظ بڑے زور سے کہتے ہیں لیکن خود خدا کا خوف نہیں کرتے۔پادری انجیل سے یہ روایت لوگوں کو سناتے ہیں کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا اگر کوئی تیری ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری بھی پھیر دے لیکن دولتمند پادری موجود ہیں پھر ان میں سے کتنے ہیں جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسری پھیر دینی تو در کنار دوسرے 101