سیرت النبی ؐ — Page 99
جاتا ہے کہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ پھر تمام عبادات میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا اقرار کرایا جاتا ہے۔مسلمان تو مسلمان غیر مذاہب کے پیر بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ جس قدر اسلام شرک کو مٹاتا ہے اتنا اور کوئی مذہب اس کا استیصال نہیں کرتا اور یہ کیوں ہے اسی نفرت کی وجہ سے جو آنحضرت صلی یہ تم کو شرک سے تھی۔عمر بھر آپ اس مرض کے مٹانے میں لگے رہے حتی کہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وہ خوشی دیکھی جو اور کسی نبی کو دیکھنی نصیب نہ ہوئی کہ آپ کی سب قوم ایک خدا کو ماننے والی ہوگئی مگر پھر بھی وفات کے وقت جو خیال آپ کو سب سے زیادہ تھا وہ یہی تھا کہ کہیں میرے بعد میری قوم مجھے خدا تعالیٰ کا شریک نہ بنائے اور جس طرح پہلی امتوں نے اپنے انبیاء کوصفات الوہیت سے متصف کیا تھا یہ مجھ سے ویسا ہی سلوک نہ کریں۔اس خیال نے آپ پر ایسا اثر کیا کہ آپ نے اپنی مرض الموت میں یہود و نصاری پر لعنت کی کہ انہوں نے اپنے احبار کی قبور کو سجدہ گاہ بنالیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارِي اتَّخَذُ وَاقْبُوْرَأَنْبِيَاءِ هِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ لَو لَا ذَلِكَ لَا بُرَزُوا قَبَرَهُ ( بخاری کتاب الجنائز باب ما يكرة من اتخاذ المساجد علی القبور ) آنحضرت سلی لا الہ الم نے اس مرض میں جس میں وفات پائی فرما یا اللہ تعالیٰ یہود اور نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنالیا ہے اور حضرت عائشہ نے یہ بھی زائد کیا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو صحابہ آپ کی قبر کو بند نہ کرتے بلکہ ظاہر کرتے اس حدیث سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کو شرک سے کیسی نفرت تھی وفات کے وقت سب سے بڑا خیال آپ کو یہ تھا کہ میں عمر بھر جو ایک خدا کی تعلیم دیتا رہا ہوں لوگ اسے بھول نہ جائیں اور میرے بعد پھر کہیں شرک میں مبتلا نہ ہو جا ئیں۔اور اگر پہلے معبودوں کو چھوڑا ہے تو اب مجھے ہی معبود نہ بنا بیٹھیں اور اپنے اس نقص کے دور کرنے کے لئے ایسے 99