سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 62
سیرت المہدی 29 62 حصہ چہارم حضور نے تقریر فرمائی۔لیکن خاکسار اس کو سن نہ سکا۔کیونکہ تقریر او پر کے حصہ مکان میں ہورہی تھی۔اور مجمع اس قدر کثیر تھا کہ چھتوں کے گر جانے کے خوف سے پہرہ قائم کر دیا گیا تا کہ اور آدمی اندر نہ آنے پائیں۔واپسی پر اسٹیشن پٹیالہ پر بھی ایسی ہی لوگوں کی کثرت تھی۔1077 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپسی پر پٹیالہ کے اسٹیشن پر تشریف لائے تو حضور نے نماز مغرب خود پڑھائی۔اس وقت ایک ناگوار واقعہ یہ ہوا کہ حضور وضو فرمانے لگے تو ہاتھ میں ایک رومال تھا جس میں قریباً یکصد روپیہ تھا تو حضور نے لوٹا ہاتھ میں لیتے وقت بے خیال کسی اجنبی شخص کو وہ رومال پکڑا دیا۔اور نماز ادا کرنے کے بعد جب حضور نے رومال کے متعلق دریافت کیا تو کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔جب اس امر کا چرچا ہونے لگا تو حضور نے منع فرمایا کہ زیادہ تجسس نہ کرو۔شاید کسی ضرورت مند کے لئے خدا نے اپنے رحم سے ایسا کیا ہو۔اس کے بعد گاڑی میں سوار کر راجپورہ پہنچ گئے۔خاکسار بھی راجپورہ تک ساتھ گیا۔اور جب حضور ریل گاڑی میں جو پنجاب کی طرف جانے والی تھی تشریف فرما ہوئے تو خاکسار نے ایک روپیہ بطور نذرانہ پیش کیا کہ حضورا سے قبول فرمائیں۔حضور نے فرمایا کہ آپ تو طالب علم معلوم ہوتے ہیں اس لئے یہ تکلیف نہ کریں۔خاکسار نے عرض کی کہ میری آرزو یہ ہے کہ میرا یہ روپیہ اُس کتاب کی اشاعت کے مصارف میں شامل ہو جائے جو حضور نے تصنیف فرمائی ہے ( یعنی براہین احمدیہ ) اس پر حضور نے وہ روپیہ بخوشی قبول فرما کر جزائے خیر کی دعا کی۔1078 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ چند وصل مجسٹریٹ آریہ تھا اور اُس زمانہ میں ہی وہ کھدر پوش تھا۔ایک دن دوران مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان ہو رہا تھا اور اس دن آدمیوں کی بہت کثرت تھی۔اس لئے چند ولعل نے باہر میدان میں کچہری لگائی۔اور بیان کے دوران میں حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو نشان نمائی کا بھی دعوی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔اور تھوڑی دیر میں آپ نے فرمایا۔جو نشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں اور یہ بڑے جوش میں آپ نے فرمایا۔اس وقت وہ سناٹے میں آگیا اور لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہوا۔