سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 43 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 43

سیرت المہدی 43 حصہ چہارم ہوں۔کرنیل صاحب کوٹ پتلون پہنے اور ڈاڑھی مونچھ منڈائے ہوئے تھے۔میں نے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں۔باہر سے ہم کسی کو آنے نہ دیں گے۔چنانچہ کر نیل صاحب اندر چلے گئے اور آدھ گھنٹہ کے قریب حضرت صاحب کے پاس تخلیہ میں رہے۔کرنیل صاحب جب باہر آئے تو چشم پر آب تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیا باتیں کیں جو ایسی حالت ہے۔وہ کہنے لگے کہ جب میں اندر گیا تو حضرت صاحب اپنے خیال میں بوریے پر بیٹھے ہوئے تھے حالانکہ بوریہ پر صرف آپ کا گھٹنا ہی تھا اور باقی حصہ زمین پر تھا۔میں نے کہا حضور زمین پر بیٹھے ہیں! اور حضور نے یہ سمجھا کہ غالبا میں ( کرنیل صاحب) بوریے پر بیٹھنا پسند نہیں کرتا اس لئے حضور نے اپنا صافہ بوریے پر بچھا دیا کہ آپ یہاں بیٹھیں۔یہ حالت دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے۔اور میں نے عرض کی کہ اگر چہ میں ولایت میں Baptize ہو چکا ہوں (یعنی عیسائیت قبول کر چکا ہوں) مگر اتنا بے ایمان نہیں ہوں کہ حضور کے صافے پر بیٹھ جاؤں۔حضور فرمانے لگے کہ کچھ مضائقہ نہیں۔آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔میں نے صافے کو ہاتھ سے ہٹا کر بوریہ پر بیٹھ گیا۔اور میں نے اپنا حال سنانا شروع کیا۔کہ میں شراب بہت پیتا ہوں اور دیگر گناہ بھی کرتا ہوں ، خدا ، رسول کا نام نہیں جانتا۔لیکن میں آپ کے سامنے اس وقت عیسائیت سے تو بہ کر کے مسلمان ہوتا ہوں۔مگر جو عیوب مجھے لگ گئے ہیں ان کو چھوڑنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا۔استغفار پڑھا کرو۔اور پنجگانہ نماز پڑھنے کی عادت ڈالو۔جب تک میں حضور کے پاس بیٹھا رہا۔میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور میں روتا رہا۔اور اسی حالت میں اقرار کر کے کہ میں استغفار اور نماز ضرور پڑھا کروں گا، آپ کی اجازت لے کر آگیا۔وہ اثر میرے دل پر اب تک ہے۔چونکہ کرنیل صاحب بہت آزاد طبع آدمی تھے۔اس واقعہ سے دو تین سال بعد ایک دفعہ مجھ سے ملے اور انہوں نے کہا کہ استغفار اور نماز میں نے اب تک نہیں چھوڑی۔یہ ضرور ہے کہ باہر اگر میں سیر کو چلا گیا اور نماز کا وقت آگیا تو میں چلتے چلتے نماز پڑھ لیتا ہوں۔ورنہ مقام پر نماز اور قرآن شریف پڑھتا ہوں۔ہاں دو وقت کی نمازیں ملا لیتا ہوں۔اور کرنیل صاحب نے یہ بھی کہا کہ میں نے ایک دفعہ پچاس روپے حضور کو بھیجے اور مجھے اس کی خوشی ہوئی کہ حضور نے قبول فرمالئے۔