سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 42 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 42

سیرت المہدی 42 حصہ چہارم کیونکہ میں اور خلیفہ نورالدین صاحب بہت زود نویس تھے۔آتھم کی طبیعت میں تمسخر تھا۔ایک دن آتم مقابلہ پر نہ آیا۔اس کی جگہ مارٹن کلارک بیٹھا۔یہ بہت بے ادب اور گستاخ آدمی تھا۔اُس نے ایک دن چند لولے لنگڑے اندھے اکٹھے کر لئے اور لا کر بٹھا دیئے۔اور کہا کہ آپ کو مسیح ہونے کا دعوی ہے۔ان پر ہاتھ پھیر کر اچھا کر دیں اور اگر ایسا ہو گیا تو ہم اپنی کچھ اصلاح کرلیں گے۔اس وقت جماعت میں ایک سناٹا پیدا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواباً ارشادفرمایا۔کہ ہمارے ایمان کی علامت جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے۔یعنی استجابت دعا اور تین اور علامتیں حضور نے بیان فرمائیں۔یعنی فصاحت و بلاغت اور فہم قرآن اور امور غیبیہ کی پیشگوئیاں۔اس میں ہماری تم آزمائش کر سکتے ہو اور اس جلسہ میں کر سکتے ہو۔لیکن مسیح نے تمہارے ایمان کی علامت یہ قرار دی ہے کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو لنگڑوں کولوں کو چنگا کر دو گے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا سکو گے۔لیکن میں تم سے اتنے بڑے نشان تو نہیں مانگتا۔میں ایک جوتی الٹی ڈالتا ہوں اگر وہ تمہارے اشارے سے سیدھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے۔اس وقت جس قدر مسلمان تھے۔خوش ہو گئے اور فریق ثانی مارٹن کلارک کے ہوش گم ہو گئے۔61044 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کے مناظرہ میں آخری دن جب آتھم کو پیشگوئی سنائی گئی تو اس کا رنگ بالکل زرد ہو گیا اور دانتوں میں زبان دے کر گردن ہلا کر کہنے لگا کہ میں نے حضرت محمد صاحب کو دقبال نہیں کہا۔حالانکہ اپنی کتاب اندرونہ بائیل میں اس نے یہ لفظ لکھا تھا۔پھر آتھم اٹھا اور گر پڑا۔حالانکہ وہ بہت قوی آدمی تھا۔پھر دو عیسائیوں نے اس کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے اٹھایا۔ایک شخص جگن ناتھ عیسائی تھا۔وہ مجھ سے اکثر باتیں کیا کرتا تھا۔میں نے اسے کہا کہ یہ کیا ہو گیا؟ وہ کہنے لگا کہ آتھم بے ایمان ہو گیا ہے اور ڈر گیا ہے۔پھر جب ہم اپنی جگہ واپس آئے۔غالبا کریم بخش ایک رئیس کی کوٹھی پر ہم ٹھہرے ہوئے تھے تو کرنیل الطاف علی خاں ہمارے ساتھ ہو لئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب سے تخلیہ میں ملنا چاہتا