سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 38
سیرت المہدی 38 88 حصہ چہارم 1037 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان میں تقریباً ایک ماہ تک ٹھہرا رہا۔مولوی عبد اللہ صاحب سنوری بھی وہاں تھے۔مولوی صاحب نے میرے لئے جانے کی اجازت چاہی اور میں نے اُن کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی نہ جائیں۔اس عرصہ میں مولوی صاحب کو ان کے گھر سے لڑکے کی ولادت کا خط آیا۔جس پر مولوی صاحب نے عقیقہ کی غرض سے جانے کی اجازت چاہی۔حضور نے فرمایا۔اس غرض کے لئے جانا لازمی نہیں۔آپ ساتویں دن ہمیں یاد دلا دیں اور گھر خط لکھدیں کہ ساتویں دن اس کے بال منڈوا دیں۔چنانچہ ساتویں روز حضور نے دو بکرے منگوا کر ذبح کرا دیئے اور فرمایا گھر خط لکھ دو۔1038 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورانِ سر کا عارضہ تھا۔ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے اُسے بلوایا گیا، کرایہ بھیج کر اور کہیں دور سے۔اس نے حضور کو دیکھا اور کہا کہ دودن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔یہ سن کر حضرت صاحب اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے میں علاج ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔یہ کیا خدائی دعوی کرتا ہے۔اس کو واپسی کرایہ کے رو پید اور مزید ہیں پچیس روپے بھیج دیئے کہ یہ دے کر اُسے رخصت کر دو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔1039 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ سردرد کا دورہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قد رسخت ہوا کہ ہاتھ پیر برف کی مانند سرد ہو گئے۔میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو نبض بہت کمزور ہو گئی تھی۔آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اسلام پر کوئی اعتراض یاد ہو تو اس کا جواب دینے سے میرے بدن میں گرمائی آجائے گی اور دورہ موقوف ہو جائے گا۔میں نے عرض کی کہ حضور اس وقت تو مجھے کوئی اعتراض یاد نہیں آتا۔فرمایا! کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نعت میں کچھ اشعار آپ کو یاد ہوں تو پڑھیں۔میں نے براہین احمدیہ کی نظم ”اے خدا! اے چارہ آزار ما خوش الحانی سے پڑھنی شروع کر دی اور آپ کے بدن میں گرمائی آنی شروع ہوگئی۔پھر آپ لیٹے رہے اور