سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 37
سیرت المہدی 37 حصہ چہارم سے کتاب پرے کر دی۔کہ جب مسلمانوں کے سینکڑوں بچے عیسائی ہو گئے۔اس وقت یہ کتاب نہ کھی۔اب جو مصنف کا اپنالڑ کا عیسائی ہو گیا تو یہ کتاب لکھی۔اس میں برکت نہیں ہوسکتی۔1035 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شروع ستمبر ۱۹۰۴ء میں میرے والد صاحب مجھے اپنے ہمراہ لاہور لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن دنوں لاہور ہی میں تشریف رکھتے تھے۔۳ ستمبر کو آپ کا لیکچر میلا رام کے منڈوے میں ہوا۔والد صاحب بھی مجھے اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔میری عمر اس وقت ساڑھے گیارہ سال کی تھی لیکن وہ منظر مجھے خوب یاد ہے کہ مجھے سٹیج پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرسی کے قریب ہی جگہ مل گئی اور میں قریباً تمام وقت آپ ہی کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھتا رہا۔گو معلوم ہوتا تھا کہ میں نے لیکچر بھی توجہ سے سنا ہو گا یا کم سے کم بعد میں توجہ سے پڑھا ہوگا۔کیونکہ اس لیکچر کے بعض حصے اس وقت سے مجھے اب تک یاد ہیں۔لیکن میری توجہ زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف رہی۔آپ ایک آرام کرسی پر تشریف فرما تھے۔اور ایک سفید رومال آپ کے ہاتھ میں تھا جو اکثر وقت آپ کے چہرہ مبارک کے نچلے حصہ پر رکھا رہا۔1036 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔آنر بیل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور میں زیارت کی تو میرے دل میں اس وقت کسی قسم کے عقائد کی تنقید نہیں تھی۔جو اثر بھی میرے دل میں اس وقت ہوا۔وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کچھ کہتا ہے کہ وہ سچ ہے اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لئے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہے۔میں گو اس وقت بچہ ہی تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی۔بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے۔لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی مانا تھا اور وہی اثر اب تک میرے لئے حضور کے دعاوی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ میں ۳ ستمبر ۱۹۰۴ ء کے دن سے ہی احمدی ہوں۔