سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 422 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 422

سیرت المہدی 422 مرزا یعقوب بیگ وڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحبان کے ذمے لگائی گئی۔غسل اور تجہیز و تکفین کی ڈیوٹی ڈاکٹر نور محمد صاحب اور محترم حکیم محمد حسین صاحب قریشی کو ملی۔خاندان نبوت کے اراکین اور قافلہ کے سفر کی تیاری اور رخت سفر کا انتظام مجھے غلام اور حضرت میاں شادی خان صاحب مرحوم کے حصے آیا۔علیٰ ہذا مال گاڑی کا ڈبہ اور ٹیشن پر کے انتظامات ریلوے کے بعض ان دوستوں کے سپرد ہوئے جن کا تعلق ریلوے سے تھا۔اس طرح تقسیم عمل سے کام جہاں بطریق احسن انجام پذیر ہوئے وہاں جلدی بھی ہو گئے۔سید نا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی نعش مبارک کے غسل میں حسب ذیل دوست شریک تھے۔ڈاکٹر نورمحمد صاحب۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔میاں شادی خان صاحب مرحوم۔میر مہدی حسین صاحب اور خاکسار راقم الحروف عبدالرحمن قادیانی غسل وغیرہ سے فارغ ہو کر جنازہ اندرونی سیڑھیوں کے راستہ اس مکان کے نچلے حصہ میں لے جایا گیا جہاں حاجی الحرمین حضرت مولوی نورالدین صاحب نے موجود الوقت دوستوں سمیت نماز جنازہ ادا کی۔اس وقت بھی اس قدر ہجوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے مکان کا نچلا حصہ اندر باہر بالکل بھر گیا تھا بلکہ ایک حصہ دوستوں کا کوچہ میں کھڑا تھا۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بعض شریف غیر احمدی لوگ بھی نماز جنازہ میں شریک تھے۔چنانچہ خلیفہ رجب دین صاحب کا یہ اعلان کہ و لوگو! حضرت کا چہرہ مبارک دیکھ کر تسلی کر لو۔کیسا نورانی۔کتنا روشن اور کس قدر پاک صورت ہے۔جن کو شبہ ہو وہ اپنا شک ابھی نکال لیں۔پیچھے باتیں بنانا فضول ہوگا۔“ وغیرہ۔اور درحقیقت اس اعلان کی ضرورت اشرار کی بد زبانی۔الزام تراشی اور بعض بیہودہ بکواس کی وجہ سے پیش آئی۔چنانچہ اس طرح دیر تک اپنے بھی اور پرائے بھی حضور کے چہرہ انور کی زیارت کرتے رہے۔اپنے تو خیر پرائے بھی چہرہ اقدس کی زیارت کر کے بے ساختہ سبحان اللہ۔ماشاء اللہ پکار اٹھتے تھے۔نماز جنازہ حضرت پر کئی بار لا ہور میں پڑھی گئی۔جوں جوں لوگ آتے رہے چند چندمل کر نماز جنازہ پڑھتے اور زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔بعض ہندو شرفاء بھی حضرت کے آخری درشن کو آئے اور مہا پرش۔دیوتا۔مہا تھا اور اوتار وغیرہ کے الفاظ بآواز بلند کہتے ہوئے نذرا خلاص و عقیدت کے پھول چڑھا گئے۔مکرم میاں مدد خان صاحب اور ایک دو اور دوستوں کی ڈیوٹی وہاں لگائی گئی تھی۔جب سب انتظام درست ہو گئے تو حضور