سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 404 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 404

سیرت المہدی 404 کیں۔سواریاں لیں۔( گھوڑی اور رتھ )۔وہاں حتی الوسع ایسے تمام بزرگوں اور خدام کو بھی ہمرکابی کا شرف بخشا جو حضور کی مجلس کا جزو ضروری تھے یا جن کی موجودگی کو حضور پسند فرماتے تھے۔حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ معہ خاندان کو درس قرآن کریم کے لئے تو محترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو کاروبار ڈاک کے واسطے ہم کالبی کا حکم دیا۔اسی طرح حضرت فاضل امروہی اور بعض دوسرے ضروری ارکان کو بھی شرف ہمرکابی بخشا۔وحی الہی داغ ہجرت 66 اور ستائیس کو ایک واقعہ ( ہمارے متعلق) واللهُ خَيْرٌ وابقى “ اللہ تعالیٰ کی کسی خاص مشیت اور قضاء کی مظہر تھیں۔سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی علالت اور اس کے نتیجہ میں سفر لاہور پر اصرار کے واقعات بھی اس کی تائید میں تھے۔مہبط انوار الہیہ سب سے زیادہ اس کلام کے منشاء و مقصد کو سمجھتے ہیں جو ان پر خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔چنانچہ باوجود صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی اچانک بیماری اور باوجود ۲۶ را پریل ۱۹۰۸ء کے الہام مباش ایمن از بازی روزگار کے نزول کے جس سے ہم لوگوں کے علم کے مطابق یقینی طور پر سفر کے التوا و روک کا حکم نکلتا تھا حضور نے ۲۷ را پریل ۱۹۰۸ء کی صبح کوسفر کا فیصلہ فرمایا اور اس طرح کلام الہی ستائیس کو ایک واقعہ ( ہمارے متعلق ) واللهُ خَيْرٌ وابقى “ کی صداقت آج اور دوسری مرتبہ ایک ماہ بعد یعنی ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو جب حضور پر نور کا جسد مبارک کفن میں لپیٹ کر لایا گیا ، ظاہر ہوگئی اور ساتھ ہی یہ امر بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ مشیت ایزدی اور قضا و قدر کے اسی منشاء کے ماتحت سیدنا حضرت اقدس نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس سفر کو اختیار فرمایا تھا تا رضاء و تسلیم کا وہ مقام جو حضور پر نور کو حاصل تھا، دنیا عملاً دیکھ کر ایک سبق حاصل کرے۔چنانچہ اس امر کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب قیام لاہور کے بالکل آخری ایام یعنی صرف ایک عشرہ قبل وصال مکن تکیه بر عمر نا پائیدار اور پھر صرف پانچ چھ روز قبل وصال