سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 403 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 403

سیرت المہدی 403 الہام کو ظاہر طور پر پورا کرنے کی غرض سے حضور نے یہ نقل مکانی اختیار فرمائی تھی۔الغرض حضور کا یہ سفر قضاء وقد راور مشیت ایزدی کا نمونہ ، خدا کی حکمتوں اور مصلحتوں کی ایک مثال اور وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى آمرہ کی عملی تفسیر تھی۔خدا کا برگزیدہ رسول، نبی آخر الزمان خدا کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت آنے والے 66 واقعہ ستائیس کو ایک واقعہ ( ہمارے متعلق) اللَّهُ خَيْرٌ وابقی “ سے نہ صرف آگاہ تھا بلکہ واقعات اور حالات پر یکجائی نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہو گا کہ یقین پر تھا۔یہی وجہ تھی کہ حضور نے حتی الوسع مناسب حد تک اس سفر کو ٹالنے اور التوا میں ڈالنے کی کوشش کی اور امر واقعہ یہی ہے کہ حضور کو انشراح نہ تھا۔چنانچہ جہاں حضور خود دعا و استخارہ میں مصروف تھے وہاں خاندان اور خدام کو بھی اس سفر کے متعلق دعا اور استخارہ کی تاکید کی جاتی رہی۔کئی مرتبہ تیاری کا سامان ہوا اور ملتوی ہو جا تا رہا۔خدا کی وحی واضح اور کھلی تھی اور اس کے سمجھنے میں کسی قسم کا اشتباہ نہ تھا۔دعا ئیں اور استخارے اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ کر ” مباش ایمن از بازی روزگار‘ کا غیر مشتبہ جواب پاچکے تھے مگر الہی نوشتوں اور مقادیر کو کون ٹال سکتا ہے وہ بہر صورت پورے ہو کر رہتے ہیں اور خدا کے یہ مقدسین انبیاء وراستباز جو کہ انا اول المسلمین “ کا عہد اپنے خدا سے باندھتے ہیں عملاً اپنے عہد کے بار یک در بار یک شرائط اور سارے ہی پہلوؤں کی پوری طرح نگہداشت کرتے اور ان کو بطریق احسن نباہتے، اپنی مرضی کو پوری طرح سے اپنے خدا کی مرضی کے ماتحت کر دیا کرتے ، اس کی قضاء وقدر کے سامنے گردن ڈال دیتے اور سرتسلیم جھکا دیا کرتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک مناسب اور جائز حد تک اس سفر کو روک دینے کی کوشش کی مگر بالکل اسی طرح جس طرح منذر رویا و کشوف کے وقت حضور دعا،صدقہ اور خیرات کیا کرتے تھے تا کہ تقدیر معلق ہو تو ٹل جائے مگر جب خدا تعالیٰ کی بار بار کی وحی کے ماتحت حضور کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ قضاء مبرم ہے ،ٹل نہیں سکے گی تو حضور نے ” مرضی مولا از ہمہ اولیٰ کی تعمیل کا مصم ارادہ فرمالیا۔جب دیکھا کہ قضا و قدر اور منشاء ایزدی یہی ہے کہ یہ سفر اختیار کیا جائے تو حضور نے تو کلا علی اللہ تیاری کا فیصلہ فرما کر یہ سفر اختیار کرلیا۔سفر کی تیاری اور قافلہ کی ہیئت ترکیبی ، سفر کی تیاری خود اس امر پر شاہد ہے کہ حضرت کو آنے والے واقعہ کا پوری طرح سے علم تھا۔چنانچہ جہاں حضور نے اپنے سارے خاندان کو ساتھ لیا۔ضروریات فراہم