سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 371 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 371

سیرت المہدی 371 تازہ بتازہ کلام سننے کا مقام اور اس کلام کو پورا ہوتے دیکھنے سے خدا کے کامل علم اور اس کی کامل قدرت پر یقین پیدا ہونے کی جگہ اور دلوں میں نور علم و عرفان بھرنے کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔روح کی تازگی ، ایمان کی مضبوطی ، قلوب کی صفائی اور اذہان کی جلا کے سامان اس مجلس میں جمع ہوا کرتے تھے۔تزکیہ نفس کے سامان اس میں ملتے اور محبت الہی کی آگ پیدا ہو کر دنیا کی محبت کو سرد کر دیا کرتی تھی۔چنانچہ اس تازہ نشان نے بھی جماعت میں ایک روحانی تغیر پیدا کر دیا اور سالکین کے لئے منازل ایقان وعرفان کو آسان بنا دیا تھا اور ایک خاص روحانی انقلاب کا یہ نشان الہی پیش خیمہ تھا جس کی اہمیت گہرے غور و تدبر سے ہمیشہ نمایاں ہوتی رہے گی۔عید کے روز حضور کے اس خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھے جانے اور حضور پر نور کو نطق کی خاص طاقت وقوت عطا کئے جانے سے یوم الحج کے روز کی دعاؤں کی قبولیت کا یقین گو یا مشاہدہ میں بدل گیا تھا کیونکہ یہ دونوں چیزیں باہم بطور لازم ملزوم کے تھیں۔یہ عید اپنی بعض کیفیات کے لحاظ سے تاریخ سلسلہ کا ایک اہم ترین واقعہ اور ایک خاص باب ہے جس کی گہرائیوں میں جتنے بھی غوطے لگائے جائیں گے اتنے ہی زیادہ سے زیادہ قیمتی اور انمول اور بے مثال موتی ملیں گے۔مبارک وہ جن کو ان کے حصول کی توفیق رفیق ہوا اور سلامتی ہو اُن پر جو اُن کو حاصل کر کے خدمت سلسلہ اور خدمت خلق میں صرف کریں۔اللهم صلّ على محمد و علی آل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید آمین۔آمین ثم آمین عبدالرحمن قادیانی بقلم خود تحریر ۲۵ جولائی ۱۹۴۶ء