سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 370 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 370

سیرت المہدی 370 لکھنے والوں کی سہولت کے لئے حضور پُر نور فقرات آہستہ آہستہ بولتے اور دہراد ہرا کر بتاتے رہے۔خطبہ الہامیہ کے نام سے جو کتاب حضور نے شائع فرمائی وہ بہت بڑی ہے۔۱۹۰۰ء کی عید قربان کا وہ خاص خطبہ مطبوعہ کتاب کے اڑ میں صفحات تک ہے۔باقی حصہ حضور نے بعد میں شامل فرمایا۔(۸) یہ جلسہ اور مجلس ذکر لمبی ہو گئی اور نماز کا وقت آ گیا۔چونکہ حضور پرنور نے جب یہ خطبہ عربی ختم فرمایا تو دوستوں میں اس کے مضمون سے واقف ہونے کا اشتیاق اتنا بڑھا کہ حضور نے بھی آخر پسند فرمایا کہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب اس کا ترجمہ دوستوں کا سنا دیں۔چنانچہ مولانا موصوف نے خوب مزے لے لے کر اس تمام خطبہ کا ترجمہ اردو میں اپنے خاص انداز اور لب ولہجہ میں سنا کر دوستوں کو محظوظ اور خوش وقت فرمایا اور یہ کیفیت بھی اپنے اندر ایک خاص لطف و سرور اور لذت روحانی رکھتی تھی۔ترجمہ ابھی غالباً پورا بھی نہ ہوا تھا کہ اچانک کسی خاص فقرے سے متاثر ہو کر یا اللہ تعالیٰ کے خاص القاء کے ماتحت سیدنا حضرت اقدس کرسی سے اٹھ کر سجدہ میں گر گئے اور اس طرح مجمع تھوڑی دیر کے لئے حضور کے ساتھ خدائے بزرگ و برتر کے اس عظیم الشان نشان کے عطیہ کے لئے آستانہ الوہیت پر گر کر جبین نیاز ٹکائے اظہار تشکر وامتنان کرتا رہا۔فالحمد لله۔الحمد لله۔ثم الحمد لله على ذالك۔(۹) سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خواہش فرمائی کہ اس خدائی نشان کو لوگ یاد کرنے کی کوشش کریں چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں خطبہ الہامیہ کی اشاعت کے بعد بہت سے دوستوں نے اس کو یاد کرنا شروع کیا بعض نے پورا یاد کر لیا تو بعض نے تھوڑا مگر ان دنوں اکثر یہی شغل تھا اور ہر جگہ، ہر مجلس میں اسی خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھنے اور سننے سنانے کی مشق ہوا کرتی تھی۔بعض روز شام کے دربار میں کوئی نہ کوئی دوست بھری مجلس میں حضرت اقدس کے سامنے یاد کیا ہوا سنایا بھی کرتے تھے اور اسی طرح خدا کی اس نعمت کا چرچا رہتا تھا۔میں نے بھی تین چار صفحات یاد کئے تھے۔(۱۰) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود باجود دنیا جہان بلکہ ہفت اقالیم سے بھی کہیں بڑی نعمت۔خدا کا خاص انعام اور فضل و احسان تھا کیونکہ وہ خدا نما تھا جس کو دیکھتے ہی خدا کے عظمت و جلال کا کبھی نہ مٹنے والا اثر دل ودماغ پر ہوتا اور خدا کی خدائی پر یقین پیدا ہوا کرتا تھا۔جس کی مجلس خدا کے