سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 337 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 337

سیرت المہدی 337 مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد والد صاحب مستقل سررشتہ دار ہو گئے۔اور پھر ترقی پا کر ہائی کورٹ کی رجسٹراری سے پنشنر یاب ہوئے۔یہ وضاحت اس لئے ہے کہ اشتباہ ہوتا ہے کہ شروع میں والد صاحب ملازم تھے یا نہیں۔اور یہ طریق اس لئے والد صاحب نے قائم رکھا تھا کہ ملازمت سے بے نیاز تھے جب چاہتے قادیان چلے جاتے کوئی روک نہ تھی اور یہ وجہ تھی کہ اکثر سفر وحضر میں حضرت کے ساتھ رہتے تھے۔آپ نے اخبار میں چند سوال شائع فرمائے تھے ان کے تعلق سے عرض ہے کہ :۔(۴۔الف) بروایت والد صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی احمدی کا جنازہ پڑھایا اور اس کے بعد حضور نے فرمایا! کہ جو مقتدی ہیں ان کا بھی میں نے جنازہ پڑھا دیا ہے۔والد صاحب فرماتے کہ میرا جنازہ تو حضور خود پڑھا چکے ہیں۔چنانچہ بوقت جنازہ والد صاحب جو حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پڑھایا۔میں نے اس امر کا ذکر ان سے کیا تھا۔(۴- ب) ایک مرتبہ والد صاحب کپورتھلہ سے لدھیانہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ماہ رمضان تھا اور والد صاحب روزے سے تھے۔حضرت صاحب کو جب معلوم ہوا ، تو آپ نے روزہ افطار کرا دیا۔اس وقت سوج غروب ہونے میں آدھ گھنٹہ کے قریب باقی تھا۔اور فرمایا! کہ سفر میں روزہ جائز نہیں۔(۵) والد صاحب کی ایک روایت ذیل غیر مطبوعہ ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو حضرت مرز اسلطان احمد صاحب مرحوم جالندھر میں ملازم تھے غالباً افسر مال تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا والد صاحب سے بڑا تعلق تھا۔چنانچہ مرزا صاحب موصوف نے والد صاحب سے فرمایا کہ بروز وصال حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں جالندھر میں گھوڑے پر سوار جارہا تھا۔کہ یکدم بڑے زور سے مجھے الہام ہوا ماتم پرسی“ میں اسی وقت گھوڑے سے اُتر آیا اور مجھے بہت غم تھا۔خیال کیا کہ شاید تائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو۔پھر خیال کیا کہ نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماتم پرسی تو والد صاحب کے متعلق ہی ہوسکتی ہے۔چنانچہ میں ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا کہ مجھے رخصت چند دن کی دی جائے۔غالباً والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔اس نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا نہ کوئی خبر