سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 300
سیرت المہدی 300 حصہ پنجم مہمان پٹھانوں کی طرح کے معلوم ہوتے تھے۔چند دن رہے اور بیعت کر کے چلے گئے۔بعض کہتے تھے کہ یہ جن ہیں۔1543 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ مراد بی بی صاحبہ بنت حاجی عبداللہ صاحب ارائیں منگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والده خلیفه صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب میں جوان ہوئی تو ہمارے گاؤں میں کھلی کی بیماری پھیل گئی تو مجھے بھی کھلی پڑ گئی۔میں نو مہینے بیمار رہی ، میرے والد صاحب نے کہا کہ ” حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس علاج کے واسطے لے جاؤ۔میری والدہ مجھے لے کر آئی۔اس وقت نیچے کے دالان میں حضور ٹہل رہے تھے۔ہم کھرلی کے پاس بیٹھ گئے۔میری ماں نے عرض کی کہ ”میں اپنی لڑکی کو علاج کے واسطے لائی ہوں۔حضور دیکھ لیں۔حضور نے فرمایا کہ اس وقت فرصت نہیں ہے۔میں اس گھر لی میں لیٹ گئی اور میں نے کہا کہ میر اعلاج کریں نہیں تو میں یہیں مرجاؤں گی ( حضرت ام المؤمنین اب تک میرا گھر لی میں لیٹنا یاد کرتی ہیں) تو حضرت مسیح موعود 66 علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا لڑکی کو لے آؤ۔آپ نے میری حالت دیکھ کر دو لکھی۔آنولے، بیٹیرے ، مہندی اور نیم یہ دوا لکھی۔میری ماں نے کہا کہ یہ لڑ کی بڑی لاڈلی ہے اس نے کڑوی دوا نہیں پینی۔حضور علیہ السلام نے دروازہ میں کھڑے ہو کر میرے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ بی بی تو دوا پی لے گی تو اچھی ہو جاوے گی۔آپ نے تینمرتبہ فرمایاتھا اور فر مایا کہ علی نائی کی دوکان سے یہ دوائیں لا کر مجھے دکھاؤ میری ماں دوا لائی تو حضور نے دیکھی اور فرمایا کہ اس کا عرق نکال کے اسے پلاؤ۔میری والدہ نے تین بوتلیں عرق کی بنائیں۔میں پیتی رہی اور بالکل اچھی ہوگئی۔“ 1544﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی ار جمند خان صاحب بنت حکیم محمد زمان صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے حضرت ام المؤمنین صاحبہ سے سنا ہے کہ جبکہ ابھی حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ چھوٹے بچے تھے تو باہر سے کسی سے یہ گالی سن آئے تھے کہ سور کا بچہ گوکھانا۔جب آپ نے گھر میں اس کو ایک دو مرتبہ بولا تو حضور مسیح موعود علیہ السلام نے سن کر فرمایا کہ ”محمود ! محمود ! ادھر آؤ۔میں تمہیں