سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 299
سیرت المہدی 299 حصہ پنجم کہ ” میری موجودگی میں ایک دن کا ذکر ہے کہ باہر گاؤں کی عورتیں جمعہ پڑھنے آئی تھیں تو کسی عورت نے کہہ دیا کہ ان میں سے پسینہ کی بو آتی ہے۔چونکہ گرمی کا موسم تھا۔جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ تو اس عورت پر ناراض ہوئے کہ ” تم نے ان کی دل شکنی کیوں کی ؟ ان کو شربت وغیرہ پلایا اور ان کی بڑی دل جوئی کی۔حضور مہمان نوازی کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔دو 1541 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹرسید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ” پہلی دفعہ جب ہم قادیان آئے ہیں تو عزیزم ولی اللہ شاہ صاحب کی ٹانگ میں گھوڑے پر سے گر جانے کی وجہ سے سخت تکلیف تھی اور ٹانگ سیدھی نہیں ہوتی تھی۔سول سرجن نے کہدیا تھا کہ ٹانگ ٹھیک نہیں ہوسکتی۔والدہ صاحبہ قادیان آنے لگیں تو انہوں نے دعا کے لئے رقعہ لکھ دیا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ ولی اللہ شاہ کون ہے؟ والدہ صاحبہ نے بتایا کہ ” میرالڑ کا ہے۔آپ نے فرمایا۔دعا کریں گے، انشاء اللہ صحت ہو جائے گی۔چنانچہ آپ نے دعا فرمائی اور اسی سول سرجن نے جس نے کہا تھا کہ ”اب آرام نہیں آسکتا۔علاج کیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹانگ بالکل ٹھیک ہوگئی۔یہ بھی آپ کا معجزہ ہے۔“ 1542 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ عائشہ صاحبہ بنت مستری قطب الدین صاحب بھیروی زوجہ خان صاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب پنشنز نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والده خلیفه صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جس مکان میں اب ام طاہر صاحبہ رہتی ہیں یہ مکان بن رہا تھا۔میرے ابا برآمدہ کو روغن کر رہے تھے۔جب شام کو گھر گئے تو چونکہ وہ اپنا قرآن مجید بھول گئے تھے مجھے کہا کہ جا کر میرا قرآن مجید لے آ۔جب میں گئی تو اس وقت بڑی سخت آندھی آگئی۔اس آندھی میں ایک لفافہ اڑ کر آیا اور جہاں حضور علیہ السلام بیٹھے تھے وہاں آکر گرا۔جب آندھی ذرا تھمی تو حضور نے لالٹین منگوائی اور وہ لفافہ کھول کر پڑھا اس میں جو لکھا تھا حضور علیہ السلام نے سنایا کہ ” چند مہمان آرہے ہیں ان کے واسطے علیحدہ مکان رکھا جاوے اور ان کے کھانے کا انتظام بھی الگ ہی کیا جاوے۔چنانچہ جب وہ مہمان آئے تو ان کو اس گھر میں جہاں اب میاں بشیر احمد صاحب رہتے ہیں ٹھہرایا گیا تھا۔وہ