سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 286 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 286

سیرت المہدی 286 حصہ پنجم کھا رہے تھے کہ میں نے میٹھے چاول بھیج دئے۔حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو پوچھا کہ یہ چاول کس نے پکائے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی کہ حضور ! مجھے معلوم نہیں۔حضور نے فرمایا کہ ” حافظ حامد علی صاحب کی بیوی نے پکا کر بھیجے ہیں۔بہت اچھے پکائے ہیں ان کے واسطے دعا کرو۔“ 1511 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ لال پری صاحبہ پٹھانی دختر احمد نور صاحب کا بلی نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن میری والدہ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دبارہی تھیں۔آپ کے پاس کوئی جامن لایا۔آپ نے جامن کھا کر گٹھلی پھینک دی میں نے والدہ سے کہا کہ اس کو میں اپنے منہ میں ڈال لوں۔اس پر تھوک لگا ہے۔جب میں نے منہ میں ڈالی تو آپ نے میری طرف نظر کر کے جامن دئے۔میری والدہ نے عرض کیا کہ نہیں حضور ! وہ تبرک چاہتی تھی۔حضور نے فرمایا کہ ” آپ کی بات سمجھ گیا ہوں یہ بھی تبرک ہے۔حالانکہ میں نے پشتو زبان بولی تھی۔1512 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن فجر کے وقت حضور علیہ السلام شہ نشین پر ٹہل رہے تھے۔میں اور ہمشیرہ زینب اور والدہ صاحبہ نما ز پڑھنے کے لئے گئیں تو آپ نے فرمایا۔آؤ تمہیں ایک چیز دکھا ئیں۔یہ دیکھو یہ دمدار تارا ہماری صداقت کا نشان ہے۔اس کے بعد بہت سی بیماریاں آئیں گی۔“ چنانچہ طاعون اس قدر پھیلا کہ کوئی حد نہیں رہی۔1513 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ اہلیہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ ❤ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ صبح کے وقت حضور بسر اواں کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے۔جس وقت چھوٹی بھینی جو بڑی بھینی کے مشرق کی طرف ہے کے پاس سے گزر کر ذرا آگے بڑھے توام حبیبہ زوجہ مرزا خدا بخش صاحب نے کہا کہ حضور ! اب آگے نہ بڑھیں میں تھک گئی ہوں۔اب واپس چلیں۔تو حضور علیہ السلام نے ہنس کر فر مایا کہ ” تم ابھی تھک گئی ہو یہ