سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 284
سیرت المہدی 284 حصہ پنجم میرے متعلق کہا کہ اس لڑکی کو آئندہ کچھ تکلیف نہ ہو۔“ تھوڑے عرصہ بعد میاں مبارک احمد صاحب بیمار ہو گئے تو ہم اکثر او پر رہتی تھیں۔ہم نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر کسی قسم کے غم کے آثار نہیں تھے۔جب میاں مبارک احمد صاحب نے وفات پائی تو آپ دیکھ کر اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر چوبارہ پر تشریف لے گئے اور اس وقت تک نہ اترے جب تک جنازہ تیار نہ ہوا۔آپ کو فطرتی غم تھا اور ایک طرف خوشی بھی تھی۔کہ خدا تعالی کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔آپ فرماتے تھے کہ اللہ کی امانت تھی جو کہ خدا کے پاس چلی گئی۔لیکن جب بھی میں آپ کو دیکھتی آپ کو خوش ہی دیکھتی۔آپ اپنے مہمانوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دیتے تھے اور ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے۔جب ہماری چھٹیاں ختم ہونے کو آئیں تو میں نے حضور علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت مانگی جو کہ حضور علیہ السلام نے بخوشی منظور کر لی۔1507 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ اہلیہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح کے وقت آفتاب نکلنے کے بعد بسراواں کی طرف سیر کرنے کے واسطے تشریف لے گئے۔آپ کے ہمراہ حضرت اُم المومنین کے علاوہ چند اور عورتیں بھی تھیں۔جن میں سے میرے علاوہ مرزا خدا بخش صاحب جھنگ والے کی بیوی ام حبیبی، محمد افضل صاحب کی بیوی سردار، حافظ احمداللہ صاحب کی بیوی اور اہلیہ حضرت خلیفہ اسی اول وغیرہ بھی تھیں۔ان دنوں حضور علیہ السلام کے ہمراہ صبح کو پانچ چھ عورتیں اور حضرت اُم المومنین سیر کو جایا کرتی تھیں اور عصر کے بعد مرد جایا کرتے تھے۔بعض اوقات صبح کو بجائے عورتوں کے مرد ہی صبح کو جایا کرتے تھے۔حضور علیہ السلام اکثر محلہ دارالانوار کی طرف والے رستہ پر سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔بعض دفعہ حضور جب سیر کے واسطے نکلتے تو سکھ لوگ بے ادبی کے کلمات زبان سے نکالتے جو حضوڑ اور حضور کے ہمراہ عورتوں کو سنائی دیتے تھے مثلاً " مرزا بھیڑ بکریاں لے کر باہر نکلتا ہے۔“ جب سکھ لوگ اس طرح کے فقرے لگاتے تو بعض اوقات مرزا خدا بخش اور محمد افضل صاحب کی بیوی حضوڑ