سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 282
سیرت المہدی 282 حصہ پنجم والدہ صاحبہ مرحومہ نے کہا کہ ہاں فوراً جاؤ۔کوئی پیالی بھی دی تھی کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھوک بھی لے آنا۔میں جب گئی تو حضرت چار پائی پر بیٹھے تھے۔رخ مغرب کی طرف تھا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا ” کیوں لال پری ! کس طرح آئی ہے۔میں نے ہاتھ آنکھوں پر رکھا ہوا تھا۔میں نے کہا کہ حضور آنکھیں دکھتی ہیں ، بہت علاج کیا اچھی نہیں ہوتیں۔آپ نے اپنی انگلی پر تھوک لگا کر میری آنکھوں کے ارد گرد لگا دیا۔فرمایا بس ! پھر کبھی ایسی درد نہ کریں گی اور ہنس کر کہا۔”اچھی ہوگئی ؟ گھر آئی ! میں نے آنکھیں کھول لیں۔پھر مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔1503 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی امیری نائین والدہ عبدالرحیم صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمه مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام بہت نیک تھے اور بہت عبادت گزار تھے۔ادھر ادھر گلیوں میں کبھی نہیں پھرتے تھے۔عموماً گھر پر ہی رہتے تھے یا مسجد میں جاتے تھے۔جانو کشمیری عموماً خدمت میں ہوتا تھا۔حافظ مانا بسا اوقات رات دیر تک پیرد بایا کرتا تھا۔حضور علیہ السلام کالباس سادہ ہوتا تھا۔جب دہلی اپنے نکاح کے لئے گئے تھے۔تو یونہی سادگی سے چلے گئے تھے۔1504 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سعیدہ بیگم صاحبہ بنت مولوی محمد علی صاحب مرحوم بدوماهوی مہاجر و اہلیہ وزیر محمد صاحب مرحوم پینشنز مہاجر نے بواسطہ مکرم محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز میری والدہ مرحومہ نے ، جب حضور علیہ السلام من ہی میں پلنگ پر تشریف فرما تھے ، آپ کی خدمت میں کہا کہ میری یہ لڑکی درمشین میں سے یہ شعر پڑھا کرتی ہے اس پر سراج منیر سے حضرت اقدس نے خاکسارہ کو فرمایا کہ ” پڑھو، سناؤ خاکسارہ نے فداہ نفسی وہ تمام شعر سنا دیئے جن کا پہلا شعر یہ ہے۔ڈال دی۔" زندگی بخش جام احمد ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے۔حضور نے سر پر پیار کیا اور دونوں دست مبارک سے باداموں کی مٹھی بھر کر خاکسارہ کی جھولی میں 1505 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب و بنت ڈاکٹر