سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 18 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 18

سیرت المہدی 18 حصہ چہارم دار البیعت کے نام سے مشہور ہے تو پہلے روز قریباً شام کے قریب سات آدمی بیعت کے لئے تیار ہوئے جن میں سے پانچ نے بیعت کر لی ہے۔ان میں ایک میاں کریم بخش صاحب بھی تھے۔باقی دو نے کہا کہ ہم کل کریں گے بس پھر سلسلہ بیعت ہر روز جاری رہا۔میں ہر روز عرض کرتا کہ حضور میری بیعت لیں۔فرماتے تمہاری بیعت تو ہو گئی۔جب تم روزانہ ہماری خدمت کرتے ہو۔بس پھر میں حاضر خدمت رہتا۔بیعت کے لئے کہتا تو فرماتے کہ تمہاری بیعت ہوگئی ہے۔پھر حضور قریباً مہینہ بھر کے بعد تشریف لے گئے۔میں نے قریباًدوسال بعد قادیان پہنچ کر عرض کیا کہ حضور آپ اور لوگوں کی بیعت لیتے ہیں، میری بیعت نہیں لیتے۔فرمایا ! میاں تمہاری بیعت ہو چکی ہے۔اچھا جمعہ کے بعد پھر کر لینا۔میری عمر قریباً ۱۸ سال کی شروع ہوگئی تھی۔تب دستی بیعت کی۔میرے جیسے جاہل او جڈ پر یہ فضل الہی تھا۔الحمد للہ۔یہ بیان میں نے میاں رحمت اللہ باغانوالہ احمدی بنگہ کے پاس اپنی یادداشت کے طور پر لکھایا ہے۔ذکر لمبا ہے مختصر لکھ دیا ہے۔میاں رحمت اللہ مذکور ہمارے رشتہ دار ہیں۔میرے بھائی ملاں کرم الہی کی نواسی کی شادی ان کے عزیز بیٹے ہدایت اللہ احمدی سے ہوئی ہے۔العبد نشان انگوٹھا میاں رکن الدین ۲۳-۹۰-۳۸ ارا ئیں لدھیانہ چھاؤنی محلہ الراقم خاکسار طالب دعا رحمت اللہ باغانوالہ احمدی بنگه حال لدھیانہ بقلم خود ۳۸-۹-۲۳ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ پہلے روز قریباً شام کے قریب سات آدمی بیعت کے لئے تیار ہوئے جن میں سے پانچ نے بیعت کر لی۔اُن میں سے ایک میاں کریم بخش صاحب تھے میں نے میاں کریم بخش صاحب مذکور کے متعلق تحقیقات کی ہے اس کے متعلق میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کوئی کریم بخش شخص نامی ایسا نہیں جس نے ابتدائی دس بیعت کنندگان میں بیعت کی ہو۔سوائے سائیں گلاب شاہ مجذوب والے کریم بخش کے۔وہ فوت ہو چکے ہیں، ے یہاں روایت میں سہو معلوم ہوتا ہے۔حضرت منشی احمد جان صاحب کی وفات ۱۸۸۳ء میں ہوئی اور پہلی بیعت ۱۸۸۹ء میں ہوئی تھی ( سید عبدالحی )