سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 226 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 226

سیرت المہدی 226 حصہ پنجم چھدوایا تو حضور کی پہلی بیوی نے بھی خوشی کی۔جب نور جان اتفاق سے مرزا نظام الدین کے گھر گئی تو مرز انظام الدین نے کہا کہ حضرت صاحب کی وجہ سے ہم پر بڑا فضل ہوا ہے۔آبادی ہوگئی ہے۔ہم امیر بن گئے ہیں۔تو میں نے کہا کہ ”اب امیر ہوکر ان پر آوازیں کستے ہو“۔1376 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک بار نواں پنڈ کی دو عورتیں آئیں جن کے پاس کچھ گیہوں تھا۔انہوں نے کہا۔حضور! اب کے فصل بہت کم ہوئی ہے۔میں پندرہ یا سولہ سیر لائی ہوں۔فرمایا ” لے جاؤ“ کہا حضور ! اب کے ٹڈی ( ملخ ) پڑ گئی ہے۔فصل نہیں ہوئی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا ” لے جاؤ ہم کو معلوم ہے۔انہوں نے کہا حضور ! اب ہم لے آئی ہیں آپ لے لیں۔آپ نے فرمایا ”نہیں لے جاؤ“ دوسری عورت سے فرمایا کہ تم بھی نہ لانا۔یہ بھی فرمایا کہ سب کو منع کر دو کوئی حق فصلانہ نہ لاوے“۔1377 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اما ء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چند ہندو عورتیں گلگلے لے کر آئیں۔کوئی شادی تھی۔ان عورتوں نے ماتھا ئیکا۔آپ نے فرمایا کہ انسان کو سجدہ کرنا منع ہے۔“ گھر میں جو عورتیں تھیں ان کو کہا کہ ان کو سمجھا دو اور خوب ذہن نشین کر دو کہ سجدہ صرف خدا کے لئے ہے کسی انسان کو نہیں کرنا چاہئے“۔1378 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خدیجہ بیگم صاحبہ اہلیہ محتر مہ خان بہادر غلام محمد صاحب گلگتی نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میں پہلے پہل گلگت سے اپنے خاوند کے ہمراہ بیعت کے واسطے آئی ہوں۔میرے خاوند نے مجھے حضور کے مکان کے اندر بھیج دیا۔کوئیں کے پاس حضرت اماں جان پیڑھی پر بیٹھے ہوئی کچھ دھو رہی تھیں۔انہوں نے میرے آنے کی اطلاع حضور کو بھیج دی۔اس وقت حضور اوپر کی منزل پر تھے۔مجھے بلا بھیجا۔میں ایک عورت کے ساتھ اوپر گئی۔تو حضوڑ نے ایک موٹا سا کپڑا میری طرف پھینکا کہ اس کو پکڑ لو۔اور جو میں کہتا جاؤں تم بھی کہتی جاؤ۔“ پھر حضور جو کچھ بیعت لینے کے وقت فرمایا کرتے تھے فرماتے گئے۔میں بھی کہتی گئی۔بیعت کے بعد دعا فرمائی۔