سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 209
سیرت المہدی 209 حصہ پنجم مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد مولوی عبدالغنی صاحب نومسلم تھے۔میں تین سال کی تھی کہ ابا فوت ہو گئے تھے۔میرے چھ بھائی تھے اور میں اکیلی ان کی بہن تھی کہ ہم یتیم ہو گئے تھے۔میں اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں ڈاکٹر اقبال علی غنی اور منظور علی صاحب مرحوم سے بڑی تھی۔ہم امرتسر میں رہتے تھے۔میرے دونوں بڑے بھائی ڈاکٹر علی اظفر صاحب اور فیض علی صابر جب جوان ہوئے تو مشرقی افریقہ چلے گئے تھے اور وہیں احمدی ہو گئے تھے۔میں کوئی بارہ سال کے قریب عمر کی ہوں گی کہ بھائی فیض علی صابر صاحب کو دو تین دن کے واسطے گھر امرتسر آنے کا موقع ملا۔وہ اتفاق اس طرح ہوا کہ ان کی اور ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم مغفور کی نوکری یوگنڈا ریلوے کے مریض قلیوں اور ملازموں کو جو بیمار ہو کر کام کے لائق نہیں رہے تھے واپس بمبئی تک پہنچانے کی لگی۔ان کے جہاز نے ایک ہفتہ قیام کے بعد بمبئی سے واپس ممباسہ کو جانا تھا اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر یہ دونوں حضرت مسیح موعود سے دستی بیعت کرنے کے واسطے روانہ ہو پڑے۔رات کو بارہ بجے امر تسر گھر پہنچے صبح کو قادیان چلے گئے۔دوسرے دن بیعت کر کے آئے اور واپس بمبئی چلے گئے۔1337 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری والده مکرمه مرحومه مدفونه بہشتی مقبره نمبر ۱۳۰ بہت نیک پاک اور عبادت گزار تھیں، جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے احمدی ہو گئے ہیں تو اس لحاظ سے کہ وہ نیک ہو گئے ہیں اور نماز روزہ کے پابند بھی ہو گئے ہیں وہ خوش تھیں۔لیکن ہمارے ہمسایہ اور رشتہ دار ان کو ڈراتے تھے کہ تیرے بیٹے کا فر ہو گئے ہیں۔مرزا صاحب کی نسبت طرح طرح کے اتہام لگاتے اور بکواس کرتے تو وہ رویا کرتی تھیں اور دعا مانگتی تھیں۔کہ اللہ کریم! ان کی اولا د کوسیدھے رستہ پر رکھے۔میرے دل میں اس وقت سے کچھ اثر یا ولولہ احمدیت کا ہو گیا تھا جسے میں ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔رشتہ دار مخالف تھے۔ان کے بہکانے سے والدہ بھی مخالف ہی معلوم ہوتی تھیں۔اتفاق یہ ہوا کہ بھائی فیض علی صاحب صابر قریباً ایک سال کے بعد بیمار ہو جانے کے وجہ سے ملا زمت چھوڑ کر واپس آگئے۔گھر میں کوئی نگران بھی نہ تھا اس لئے بھی دوسرے بھائیوں نے ان کو بھیج دیا۔ان دنوں میرے دوسرے دو بھائی