سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 168

سیرت المہدی 168 حصہ چہارم لینے کی اپیل تھی۔اس میں بہت سا روپیہ خرچ ہو چکا تھا۔مقدمے کی پیروی کے بعد حضور کے والد صاحب اور بڑے بھائی واپس تشریف لے گئے اور مرزا غلام احمد صاحب کو عدالت سے حکم سننے کے لئے چھوڑ گئے۔میرے ایک دوست ملک بسو صاحب رئیس لاہور تھے۔( جو خاکسار ملک غلام محمد کے والد صاحب تھے ) ان کی گاڑی آجایا کرتی تھی اور حضرت صاحب کو چیف کورٹ میں لے جاتی تھی اور پھر چار بجے ان کو واپس لے آتی تھی۔ایک روز ایک یا دو بجے کے قریب حضرت صاحب پیدل تشریف لا رہے تھے۔میں نے دور سے دیکھا تو ان کا چہرہ نہایت بشاش تھا اور بڑے خوش خوش آ رہے تھے۔میں نے دریافت کیا کہ آپ جلدی آگئے ہیں اور گاڑی کا انتظار نہیں کیا۔بڑی خوشی سے فرمانے لگے ” آج حکم سنایا گیا ہے اس واسطے جلدی آگیا ہوں۔گاڑی کا انتظار نہیں کیا۔میں نے کہا بہت خوش ہیں مقدمہ جیت لیا ہوگا اور میں نے ان کے چہرہ سے دیکھ کر بھی یہی محسوس کیا کہ مقدمہ جیت لیا ہو گا لیکن حضرت صاحب علیہ السلام نے فرمایا کہ ”وہی بات پوری ہوئی جو میرے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پہلے فرمائی ہوئی تھی یعنی ” مقدمہ ہارا گیا اور میرے مولیٰ کی بات پوری ہوئی۔یہ سنتے ہی میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور میں نے دل میں کہا کہ باپ کا تو بیڑا غرق ہو گیا ہے اور یہ خوش ہورہے ہیں۔1246 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عرب غالباً اس کا نام محمد سعید تھا۔قادیان میں دیر تک رہا تھا۔ایک روز حضور علیہ السلام بعد نماز مسجد مبارک میں حاضرین مسجد میں بیٹھے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک فرمارہے تھے کہ اس عرب کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غریب تھے۔پس عرب کا یہ کہنا ہی تھا کہ حضور علیہ السلام کو اس قدر رنج ہوا کہ چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور محمد سعید عرب پر وہ جھاڑ ڈالی کہ وہ متحیر اور مبہوت ہو کر خاموش ہو گیا اور اس کے چہرہ کا رنگ فق ہو گیا۔فرمایا کہ " کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غریب تھا جس نے ایک رومی شاہی اینچی کو اُحد پہاڑ پر سارا کا سارا مال مویشی عطا کر دیا تھا وغیرہ۔اس کو مال دنیا سے لگاؤ اور محبت نہ تھی۔“ 1247 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے