سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 167
سیرت المہدی 167 حصہ چہارم کلام الہی کا احترام کرنا چاہئے۔“ 1244 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہمارے گاؤں کا قاضی فوت ہو گیا اور اس کے دو چھوٹے بچے اور لڑکی اور اس کی بیوی پیچھے رہ گئی۔میں اس کے لئے قضا کا کام کرتارہا اور جو آمدنی گاؤں سے ملانوں کو ہوتی ہے اس کو دیتا رہا۔چنانچہ میں نے اور میری بیوی نے اس کی لڑکی کو قرآن شریف اور کچھ دینی کتابیں بھی پڑھا ئیں۔جب لڑکے بڑے ہوئے تو ایک دفعہ عید کے دن جب ہم عید کے واسطے مسجد میں گئے اور میں نماز پڑھانے کے واسطے کھڑا ہوا تو اس لڑکے نے کہا کہ میں آج عید کی نماز پڑھاؤں گا۔میں نے اس کو کہا کہ ہماری نماز تمہارے پیچھے نہیں ہوتی۔تو ہمیشہ پیچھے پڑھتا رہا ہے۔آج تو کیوں پڑھائے گا؟ اس کے ساتھیوں نے اس کو کہا کہ تمہاری قضاء لے لے گا۔اس پر اس ملانے کے بچے نے زور دیا کہ آج میں ہی نماز پڑھاؤں گا۔اس بات پر ہماری جماعت کے ایک لڑکے نے جس کا نام شیر محمد تھا اس کو ایک مکا مارا۔میں نے اس کو منع کیا اور سب کو ساتھ لے کر اپنی جگہ حویلی میں نماز ادا کی اور جب میں جمعہ پڑھنے کے لئے اپنی عادت کے مطابق قادیان شریف آیا تو دیکھا کہ میاں عبد الرحیم حجام مسجد میں کھڑا ہے۔میں نے پوچھا کہ اس جگہ کیوں کھڑے ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ حضور علیہ السلام کو مہندی لگانی ہے اور اندر اجازت کے لئے کہلا بھیجا ہے۔میں نے یہی موقعہ پایا اور وہاں کھڑا ہو گیا۔جب اجازت ہوئی تو میں بھی اندر چلا گیا۔حضور علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔مصافحہ کیا اور پاس بیٹھ گیا۔میں نے وہ سارا قصہ عید والا سنایا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ صبر کرو۔یہ سب مسجدیں تمہاری ہی ہو جاو ینگی۔اس کے علاوہ اور بہت باتیں ہوتی رہیں جو یاد نہیں رہیں۔چنانچہ اب وہ مسجد اللہ کے فضل وکرم سے احمدیوں کے پاس ہے۔1245 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سید محمد علی شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں لاہور میں محکمہ جنگلات میں ملازم تھا۔مرزا غلام مرتضی صاحب و مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے بڑے بھائی میرے پاس آکر ٹھہرے۔اُن دنوں میں ان کا ایک مقدمہ چیف کورٹ پنجاب میں در پیش ہونا تھا۔وہ مقدمہ حضرت مسیح موعود کے والد صاحب اپنی کھوئی ہوئی جائیداد