سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 160
سیرت المہدی 160 حصہ چہارم تو ایک سیڑھی ابھی باقی رہتی تھی کہ ایک دروازہ اندر جانے کو کھلتا تھا اور آگے چھوٹا سا صحن جسے عبور کر کے حضور اندر گھر میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں صحن میں ایک چوبی سیڑھی لگی ہوئی تھی اس کے اوپر کے مکان میں حضرت خلیفہ اول رہا کرتے تھے۔اس وقت حضرت خلیفہ اول بھی اس چوبی سیڑھی پر چڑھ کر اوپر مکان کو جارہے تھے۔حضور علیہ السلام نے ان کو بھی بلالیا اور فرمایا کہ ”میاں خیر الدین وغیرہ یہاں دوکان کھولنا چاہتے ہیں۔کیا اعتبار ہے کہ دوکان میں خسارہ ہو یا نفع ہو؟ اچھا اگر خسارہ پڑے گا تو دوکان چھوڑ دیں گے۔یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے۔بعدش ہم نے مشورہ کیا کہ ہم کو امید نہیں ہے کہ منافع ہو۔بہتر ہے کہ دوکان کھولنے کا ارادہ ترک کر دیں۔چنانچہ ہم واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔1228 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب ریج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میرے والد خواجہ حبیب اللہ صاحب مرحوم ساکن گاگرن کشمیر نے کہ جب میں ۹۸-۱۸۹۷ء میں قادیان گیا۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد میں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے کشمیر واپس آنے کی اجازت مانگی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہاں ہی ٹھہرو اور قرآن شریف پڑھو۔پھر میں کچھ عرصہ اور ٹھہرا۔اس کے بعد پھر میں نے حضرت مولا نا حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول کے ذریعہ درخواست کی کہ میرے دولڑ کے سری نگر میں مشرکوں کے پاس ہیں اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ میں ان کا کچھ بندوبست کروں۔چنانچہ مجھے اجازت دی گئی اور پھر تم دونوں بھائیوں کو ( عبد القادر وعبد الرحمن ) قادیان لے آیا۔فالحمدللہ علی ذالک 1229 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد صاحب پہلے حنفی تھے پھر اہل حدیث ہوئے اس وقت وہ اپنے دوست مولوی محمد حسن صاحب مرحوم ساکن آسنور ( والد مولوی عبد الواحد صاحب ) کو کہا کرتے تھے کہ ہم لوگ اب بڑے موحد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ممکن ہے کوئی ایسی جماعت اور نکل آئے جو ہم کو بھی مشرک گردانے۔والد صاحب فرماتے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کیونکہ ہم لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو مر دوں ( کو زندہ کرنے والے ) اور پرندوں کا خالق مانتے ہیں۔لیکن جب میرے کانوں نے یہ شعر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا سنا