سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 155 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 155

سیرت المہدی 155 حصہ چہارم 1214 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے ایک شخص کے بار بار بہ تکرار سوال پر استغفار اور لاحول گیارہ گیارہ دفعہ پڑھنے کا بطور وظیفہ فرمایا تھا ( سائل کا سوال تعداد معینہ کا تھا) مجھے ٹھیک یاد نہیں رہا۔شاید درود شریف بھی گیارہ دفعہ پڑھنے کا ساتھ ہی فرمایا تھا۔1215 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھ سے میاں فقیر خان صاحب مرحوم ساکن اندور کشمیر (ملازم حضرت راجہ عطا محمد خان صاحب مرحوم جا گیر دار یاڑی پورہ کشمیر نے ، راجہ صاحب موصوف کی بینائی بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہوگئی تھی۔جب وہ قادیان گئے تو جب کبھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے باغ میں بیدانہ کے ایام میں جاتے تو حضور علیہ السلام راجہ صاحب موصوف کے آگے خود اچھے اچھے دانے بیدانہ یا شہتوت میں سے چن کر رکھتے۔راقم عاجز کرتا ہے کہ راجہ صاحب موصوف مہمان خانہ میں رہتے تھے اور حضور علیہ السلام مہمان خانہ آکر راجہ صاحب کو بھی سیر میں شریک فرماتے تھے۔1216 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے تولد فرزند کے عقیقہ کے متعلق سوال کیا۔فرمایا ”لڑکے کے عقیقہ کے لئے دو بکرے قربان کرنے چاہئیں، میں نے عرض کی کہ ایک بکرا بھی جائز ہے؟ حضور نے جواب نہ دیا۔میرے دوبارہ سوال پر ہنس کر فرمایا کہ اس سے بہتر ہے کہ عقیقہ نہ ہی کیا جاوے۔ایک بکرا کے جواز کا فتوی نہ دیا۔میری غرض یہ تھی کہ بعض کم حیثیت والے ایک بکرا قربانی کر کے بھی عقیقہ کر سکیں۔1217 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیمار مہمانوں کی بعض اوقات عیادت فرماتے تھے۔راجہ عطا محمد خان صاحب مرحوم کی بھی مہمان خانہ میں آکر عیادت فرماتے تھے۔ایک دفعہ میاں ضیاء الدین صاحب مرحوم طالب علم تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بورڈنگ میں عیادت فرمائی تھی۔1218 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ