سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 79

سیرت المہدی 79 حصہ اوّل اسماعیل سے کچھ علیحدگی میں بات کرنی ہے اس پر وہ اور ان کے ساتھی اُٹھ گئے اور میں بھی اُٹھ آیا۔اس وقت اسماعیل حضرت صاحب کے پاؤں دبارہا تھا۔پھر حضرت صاحب نے اسماعیل کو میرے متعلق کہا مگر اس نے انکار کیا اور کئی عذر کر دیئے کہ دو بیویوں میں جھگڑے ہوا کرتے ہیں نیز یہ کہ عبداللہ کی تنخواہ بہت قلیل ہے ( اس وقت میری تنخواہ ساڑھے چار روپے ماہوار تھی ) گزارہ کس طرح ہوگا اور میاں عبداللہ کے بسر میرے قریبی ہیں ان کو ملال ہوگا وغیرہ۔حضرت صاحب نے فرمایا ان سب باتوں کا میں ذمہ لیتا ہوں مگر اس نے پھر بھی نہیں مانا اور عذر کیا کہ میری بیوی نہیں مانے گی۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے خدا اور اس کے رسول کا حکم پیش کیا اور اپنی طرف سے بھی کہا مگر اس نے انکار کیا گویا اس کا خدا اس کا رسول اور اس کا پیر سب اس کی بیوی ہے کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں تو جو وہ کہے گی وہی کرونگا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ابھی میں نے اسماعیل سے بات شروع نہیں کی تھی کہ مجھے کشف ہوا تھا کہ اس نے میرے بائیں ہاتھ پر دست پھر دیا ہے نیز میں نے کشف میں دیکھا تھا کہ اسکی شہادت کی انگلی کٹی ہوئی ہے۔اس پر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ اس معاملہ میں مجھے نہایت گندے جواب دے گا۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس کا جواب سن کر مجھے اس سے ایسی نفرت ہوئی کہ دل چاہتا تھا کہ یہ ابھی اُٹھ جاوے اور پھر کبھی تازیست میرے سامنے نہ آوے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں اسکے بعد اسماعیل نے اپنی لڑکی کی دوسری جگہ شادی کر دی جس پر مجھ کو سخت صدمہ پہنچا۔میری اس حالت کی میرے والد صاحب نے حضرت صاحب کو بذریعہ خط اطلاع دی تو آپ نے مجھے خط لکھا کہ تم کچھ عرصہ کے واسطے تبدیل خیالات کے لئے یہاں میرے پاس آجاؤ۔مگر اس شادی کے بعد اسماعیل پر بڑی مصیبت آئی۔اس کے دو جوان لڑکے اور بیوی فوت ہو گئے۔پھر جب میری دوسری شادی ماسٹر قادر بخش صاحب کی ہمشیرہ کے ساتھ ہوئی تو اسمعیل بہت پچھتایا اور اس نے مجھے کہا کہ حضرت سے مجھے معافی لے دو۔میں نے حضرت صاحب کولکھا حضور نے اس کی بیعت قبول فرمالی مگر اس کے بعد بھی اسماعیل کو حضرت صاحب کی ملاقات نصیب نہیں ہوئی۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ میرے متعلق جو حضرت صاحب نے اپنے نشانات کے ذکر میں لکھا ہے کہ مجھے دکھایا گیا تھا کہ میاں عبداللہ کو ایک معاملہ میں ناکامی ہوگی سوایسا ہی ہوا وہ اسی واقعہ کی