سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 809 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 809

سیرت المہدی 809 حصہ سوم معتقد ہوتا تھا۔مگر آخر سخت مخالف ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نعوذ باللہ فرعون قرار دیکر ان کے مقابل پر اپنے آپ کو موسیٰ کے طور پر پیش کیا مگر بالآخر حضرت صاحب کے سامنے طاعون سے ہلاک ہوکر خاک میں مل گیا۔6945 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک روز بٹالہ میں جمعہ پڑھنے کے لئے گیا۔اس وقت میں جب بٹالہ جاتا تھا تو مولوی محمد حسین صاحب کے پیچھے جمعہ پڑھا کرتا تھا۔انہوں نے بٹالہ میں خلیفیاں والی مسجد میں جمعہ پڑھانا تھا۔جب انہوں نے خطبہ شروع کیا تو کہنے لگے کہ دیکھو مرزا حضرت مسیح ناصری کو سائنسیوں اور گنڈیوں سے تشبیہ دیتا ہے اور کیسی ہتک کرتا ہے۔مجھے یہ الفاظ سُن کر نہایت جوش پیدا ہوا۔اور میں نے اسی وقت اُٹھ کر مولوی صاحب کوٹو کا کہ جو نقشہ مسیح کا آپ پیش کرتے ہیں اس کے ہوتے ہوئے اور کس سے تشبیہ دی جائے ؟ مگر مولوی صاحب نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا۔اور نہ ہی یہ کہا کہ خطبہ میں بولنا منع ہے۔بلکہ خاموشی سے بات کو پی گئے۔اس وقت ابھی مخالف کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت نہ ہوئی تھی۔1946 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکا رکھیلتا پھرتا ہے۔پھر فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے تو ساہنسیوں اور گنڈیلوں کو خوشی ہو سکتی ہے۔جو اس قسم کا کام کرتے ہیں۔مسلمانوں کو کیسے خوشی ہوسکتی ہے۔یہ الفاظ بیان کر کے آپ ہنستے تھے۔یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آجا تا تھا۔1947 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی کے رواج دینے کی طرف توجہ تھی تو ان دنوں میں حضرت صاحب مجھے بھی عربی فقرات لکھواتے تھے اور ان میں نصیحت کے لئے بھی کبھی کبھی مناسب فقرے لکھوا دیتے تھے۔چنانچہ ایک