سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 808
سیرت المہدی 808 حصہ سوم حدیث کی طرف کھینچ رہے تھے تو انہیں پھر قرآن کی طرف لے گیا۔مولوی نظام الدین نے کہا۔مولوی صاحب! اگر قرآن آپ کے ساتھ نہیں تو پھر میں تو اس کے ساتھ ہوں جس کے ساتھ قرآن ہے۔مولوی صاحب نے کہا تو بیوقوف اور جاہل ہے۔تجھے کچھ پتہ نہیں اور لوگوں سے کہا کہ اس کی روٹی بند کر دو۔43 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ بھائی جمال الدین مرحوم نے ایک دن بیان کیا کہ ایک دفعہ میں لاہور اس ارادہ سے گیا کہ کچھ حدیث پڑھ آؤں۔ان دنوں میں مولوی محمد حسین صاحب چینیا نوالی مسجد میں رہتے تھے۔میں نے دیکھا کہ وہ صبح تہجد کے وقت اپنے شاگردوں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گو یا حدیث کے حافظ ہیں اور مجھے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب بڑے عالم ہیں۔جب میں واپس آیا اور حضرت صاحب کے پاس ایک روز ذکر کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب اپنے شاگردوں کو زبانی حدیث پڑھاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا کہ وہ زبر دست عالم ہیں۔اس پر حضرت صاحب نے فرمایا۔وہ ہمارے مقابل پر جواب لکھے۔خدا اس کا سارا علم سلب کر لے گا۔سوایسا ہی ظہور میں آیا کہ وہ کوئی جواب نہیں لکھ سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس میں محبہ نہیں کہ ظاہری علم کے لحاظ سے مولوی محمد حسین بٹالوی بہت بڑے عالم تھے اور کسی زمانہ میں ہندوستان کے علم دوست طبقہ میں ان کی بڑی قدر تھی۔مگر خدا کے مسیح کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر انہوں نے سب کچھ کھو دیا۔6944 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ مصنف عصائے موسے کو جب لاہور میں طاعون ہوا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ بات پیش ہوئی کہ حضور نے اعجاز احمدی“ میں لکھا ہے کہ مولوی محمد حسین اور مصنف ” عصائے موسی“ رجوع کرلیں گے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ان کو مرنے دو۔خدائی کلام کی تاویل بھی ہوسکتی ہے۔آخر وہ طاعون سے ہی مر گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مصنف عصائے موسیٰ سے بابو الہی بخش اکاؤنٹنٹ مراد ہے جو شروع میں