سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 794
سیرت المہدی 794 حصہ سوم اهانتگ۔یعنی جو شخص مجھے گرانے اور ذلیل کرنے کے درپے ہے۔ہم خودا سے ذلیل ورسوا کر دینگے۔چنانچہ اس کے بعد آہستہ آہستہ مولوی محمد حسین صاحب پر وہ وقت آیا جس کا نقشہ اس روایت میں بیان ہوا ہے کہ کوئی پوچھتا نہیں تھا۔اور بازاروں میں اپنا سامان اٹھائے پھرتے تھے اور اپنے ہم خیال لوگوں کی نظر سے بھی بالکل گر گئے تھے۔919 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر یر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرز تحریر میں ایک یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ حضور جب کسی لفظ یا سطر کو کاٹتے تو اس طرح کاٹتے تھے کہ پھر کوئی اسے پڑھ نہ سکے۔یہ نہیں کہ صرف ایک لکیر پھیر دی۔بلکہ اس قد ر ہر دار اور پاس پاس کر کے قلم سے لکیریں پھیر تے کہ کٹے ہوئے ایک حرف کا پڑھنا بھی ممکن نہ ہوتا تھا۔920 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں بہت چھوٹا تھا یعنی چار پانچ سال کا ہونگا۔تو مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انبالہ چھاؤنی میں مجھے انگریزی مٹھائی کی گولیاں دیا کرتے تھے اور میں ان کو چڑیا کے انڈے کہا کرتا تھا۔یہ حضرت صاحب کی بڑی لڑکی عصمت کی پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عصمت ۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئی تھی۔اور خود میر صاحب کی پیدائش غالبا ۱۸۸۱ء کی ہے۔921 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہندوؤں کے ہاں کا کھانا کھا پی لیتے تھے اور اہلِ ہنود کا تحفہ از قسم شیرینی وغیرہ بھی قبول فرمالیتے تھے اور کھاتے بھی تھے۔اسی طرح بازار سے ہند و حلوائی کی دُکان سے بھی اشیاء خوردنی منگواتے تھے۔ایسی اشیاء اکثر نقد کی بجائے ٹو نبو کے ذریعہ سے آتی تھیں۔یعنی ایسے رقعہ کے ذریعہ جس پر چیز کا نام اور وزن اور تاریخ اور دستخط ہوتے تھے۔مہینہ بعد دُکاندار وہ ٹو نبو بھیج دیتا اور حساب کا پرچہ ساتھ بھیجتا۔اس کو چیک کر کے آپ حساب ادا کر دیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ہندوؤں کے ہاتھ کی پکی ہوئی چیز جائز سمجھتے تھے اور اس