سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 766
سیرت المہدی 766 حصہ سوم 861 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ ایک لیکچر میں فرمایا کہ یہ پردہ جو گھروں میں بند ہو کر بیٹھنے والا ہے جس کے لئے وَقَرْن فِي بُيُوتِكُنَّ کے الفاظ آئے ہیں۔یہ امہات المومنین سے خاص تھا۔دوسری مومنات کے لئے ایسا پردہ نہیں ہے۔بلکہ ان کے لئے صرف اخفاء زینت والا پردہ ہے۔862 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عمدہ کاغذ پر صحیح اور خوشخط کتابیں چھپوانے کا خاص خیال تھا۔سب سے پہلے تو محمد حسین صاحب مراد آبادی کا تب تھے جو نہایت مخلص بزرگ تھے۔انہوں نے کچھ حصہ ابتدائی کتابوں کا لکھا۔اس کے بعد امرتسر کے میاں غلام محمد کا تب سالہا سال تک کتابت کرتے رہے چونکہ حضرت صاحب کو ان کی صحیح نویسی اور خط پسند تھا۔اس لئے ہمیشہ ان کو ہی بلا لیا کرتے تھے۔پہلے وہ پندرہ ،ہیں روپیہ ماہوار خشک پر آئے تھے۔پھر کہنے لگے حضور کھانا پکانے میں بڑا وقت ضائع ہوتا ہے۔اس لئے لنگر سے کھانا لگادیں۔آپ نے منظور کر لیا اور تنخواہ بھی جاری رکھی پھر ایک مدت بعد کہا کہ حضور یہ کھانا میرے مزاج کے موافق نہیں۔میں بیمار ہو جاؤں گا۔حضور روٹی کی جگہ پانچ روپیہ نقد بڑھا دیں۔اور میں خود پکانے کا بندوبست کروں گا۔آپ نے یہ بھی منظور فرمالیا۔اور اس طرح تنخواہ میں پانچ کا اضافہ ہو گیا۔پھر ایک مدت بعد پہلے کی طرح وقت نہ ملنے کی شکایت کی۔اور کہا میں حضور کا کام وقت پر نہیں دے سکتا۔سارا دن روٹی اور چولہے کے جھگڑے میں گذر جاتا ہے۔حضور اپنے ہاں سے روٹی لگا دیں۔آپ نے لگا دی اور رقم بھی قائم رہی۔پھر ایک عرصہ بعد روٹی کی شکایت کرنے لگے۔اس کی جگہ پانچ روپے مزید بڑھا لئے۔غرض وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے۔یہانتک کہ آخر تنخواہ چالیس روپیہ اور روٹی پر آگئی۔اس کے بعد خدا کا فضل ہوا کہ پیر منظور محمد صاحب نے حضور کو اس فکر سے بالکل مستغنی کر دیا۔اور جیسی خوشخط صاف صاف صحیح کتابت آپ چاہتے تھے وہ پیر صاحب کے واسطے سے حاصل ہوگئی۔اور سالہا سال پیر جی حضور کی کتابیں لکھتے رہے۔آخر پھر آخری ایام میں جب پیر جی اپنی بیماری کی وجہ سے لاچار ہو گئے۔تو پھر میاں غلام محمد کو بلوایا