سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 757 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 757

سیرت المہدی 757 حصہ سوم 843 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا۔جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا۔کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء کواحتلام نہیں ہوتا۔پھر بعد فکر کرنے کے اور طبی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی۔دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسر امرض کی وجہ سے۔انبیاء کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہوسکتا ہے۔مگر شیطانی نہیں ہوتا۔لوگوں نے سب قسم کے احتلام کو شیطانی سمجھ رکھا ہے جو غلط ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب مکرم کا یہ خیال درست ہے کہ انبیاء کو بھی بعض اقسام کا احتلام ہوسکتا ہے اور میرا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے بچپن میں اس حدیث کو پڑھا تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا۔تو اس وقت بھی میں نے دل میں یہی کہا تھا کہ اس سے شیطانی نظارہ والا احتلام مراد ہے نہ کہ ہر قسم کا احتلام۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب نے جو فطرتی احتلام اور بیماری کے احتلام کی اصطلاح لکھی ہے یہ غالباً ایک ہی قسم ہے۔جس میں صرف درجہ کا فرق ہے یعنی اصل اقسام دو ہی ہیں۔ایک فطرتی احتلام جو کسی بھی طبعی تقاضے کا نتیجہ ہوتا ہے اور دوسرے شیطانی احتلام جو گندے خیالات کا نتیجہ ہوتا ہے۔واللہ اعلم۔844 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیشاب کر کے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے۔میں نے کبھی ڈھیلہ کرتے نہیں دیکھا۔845 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندھیرے میں نہیں سویا کرتے تھے۔بلکہ ہمیشہ رات کو اپنے کمرہ میں لائین روشن رکھا کرتے تھے اور تصنیف کے وقت تو دس پندرہ موم بتیاں اکٹھی جلا لیا کرتے تھے۔846 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھے سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتاب ” قادیان کے آریہ اور ہم کی نظم لکھ رہے