سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 751
سیرت المہدی 751 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اس واقعہ کے متعلق کوئی ذاتی علم نہیں ہے اور نہ کوئی اور اطلاع ہے اس لئے میں اس کی صحت یا عدم صحت کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔مگر اس قدر بات مجھے بھی معلوم ہے جو سیرۃ المہدی حصہ اوّل کی روایت نمبر ۲۰۸ میں گذر چکی ہے کہ ایک دفعہ جب تحصیلداری کے امتحان کے لئے مرزا سلطان احمد صاحب نے حضرت صاحب کو دُعا کے لئے لکھا تھا تو حضرت صاحب نے ناراضگی کے ساتھ ان کا رقعہ پھینک دیا تھا کہ بس دُنیا کا خیال ہی غالب رہتا ہے۔مگر اسی رات حضرت صاحب کو خدا نے الہام کیا کہ ہم اس کو پاس کر دینگے۔چنانچہ وہ کامیاب ہو گئے۔835 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ چندلوگوں نے ایک احمدی سے مباحثہ کے دوران میں کہا کہ مرزا صاحب کا اپنا بیٹا ان کو نبی نہیں مانتا۔پہلے اس کو مناؤ پھر ہم سے بات کرنا۔یہ بات بڑھی اور مرزا سلطان احمد کی شہادت پر فیصلہ قرار پایا۔چنانچہ وہ احمدی اور ان کے مخالف مرزا سلطان احمد صاحب کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا کہ آپ مرزا صاحب یعنی اپنے والد صاحب کو نبی مانتے ہیں یا نہیں؟ مرزا سلطان احمد صاحب نے جواب دیا کہ میں نے بنی اسرائیل کے انبیاء کا حال پڑھا ہے۔اگر وہ ان حالات کی بناء پر نبی کہلانے کے مستحق ہیں تو میرے والد صاحب ان سے بہت زیادہ نبی کہلانے کے مستحق ہیں۔اس پر کسی نے کہا کہ پھر آپ ان کو مان کیوں نہیں لیتے۔جواب دیا کہ میں دنیا داری میں گرفتار ہوں اور میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بیعت کر لینے کے بعد بھی میرے اندر دنیا کی نجاست موجود رہے۔اس سے ایک عظمند یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ غیر احمدی ہونے کے ایام میں بھی مرزا سلطان احمد صاحب دل میں حضرت اقدس علیہ السلام کی کس قدر عزت کرتے تھے۔اپنے مقدس باپ کا اثر ان کے اندر اس قدر موجود تھا کہ نائب تحصیلدار کے بعد تحصیلدار۔پھرای۔اے۔سی پھر افسر مال پھر ڈپٹی کمشنر وغیرہ رہے مگر کسی جگہ آج تک مرزا صاحب سے کسی کو شکایت نہیں ہوئی۔انہوں نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، نہ ظلم کیا نہ جھوٹ بولا اور نہ رشوت قبول کی۔بلکہ ڈالی تک قبول نہ کرتے تھے۔یہ تمام خوبیوں کا مجموعہ انہیں وراشتا باپ سے ملا تھا۔نہ صرف اس قدر بلکہ ان کے بچوں میں بھی فطرتا یہ باتیں