سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 725 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 725

سیرت المہدی 725 حصہ سوم جھگڑا یا مقدمہ ہوتا ہے۔اور دونوں نذر دیتے ہیں۔اور دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ مقدمہ ان کے حق میں فتح ہو۔ہم دونوں کی نذر قبول کر لیتے ہیں۔اور خدا سے یہ دعا کرتے ہیں کہ ان میں سے جو سچا ہو اور جس کا حق ہوا سے فتح دے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر کا مرید کی نذررڈ کرنا مرید کے لئے موت سے بڑھ کر ہوتا ہے اس لئے سوائے اس کے کہ کسی پر کوئی خاص ناراضگی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب کی نذرقبول فرما لیتے تھے اور سب کے لئے دعا کرتے تھے اور ہر ایک کو اپنے اپنے رنگ میں دعا فائدہ پہنچاتی تھی۔کسی کو فتح کے رنگ میں اور کسی کو اور رنگ میں۔786 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں۔اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا۔کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سُنے اور آپ کو جگا دیا۔اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی تجھ۔منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم تھے۔مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔787 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں قادیان میں تھا اور اوپر سے رمضان شریف آ گیا۔تو میں نے گھر آنے کا ارادہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔نہیں سارا رمضان یہیں رہیں۔میں نے عرض کی۔حضور ایک شرط ہے کہ حضور کے سامنے کا جو کھانا ہو وہ میرے لئے آجایا کرے۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا۔چنانچہ دونوں وقت حضور برابر اپنے سامنے کا کھانا مجھے بھجواتے رہے۔دوسرے لوگوں کو بھی یہ خبر ہو گئی اور وہ مجھ سے چھین لیتے