سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 724 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 724

سیرت المہدی 724 حصہ سوم ایک عورت بیٹھے ہیں۔اور غالبا وہ بھی کشتی کا انتظار کر رہے ہیں۔ان کے پاس ایک بوتل ہے۔کبھی اس میں سے ایک گھونٹ وہ مرد پی لیتا ہے اور کبھی عورت پیتی ہے۔یہ دیکھ کر اس نے دل میں کہا۔کہ یہ دونوں کس قدر بے حیاء ہیں کہ دریا کے گھاٹ پر لوگوں کے سامنے بے حجاب بیٹھے شراب پی رہے ہیں۔ان سے تو میں بہر حال اچھا ہوں۔اتنے میں دریا کے پار کی طرف سے کشتی کنارے کے قریب آئی اور اہر کے صدمہ سے الٹ گئی۔اس میں چھ آدمی تھے۔یہ نظارہ دیکھ کر وہ عورت کا ساتھی اُٹھا اور دریا میں کود پڑا۔اور ایک ایک کر کے پانچ آدمیوں کو نکال لایا۔پھر اس شخص سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ اب آپ بھی اس چھٹے آدمی کو نکالیں یا دور دور بیٹھے دوسروں پر ہی بدظنی کرنا جانتے ہیں۔سنئے یہ عورت میری والدہ ہے اور اس بوتل میں پینے کا پانی ہے جو ہم نے سفر میں محفوظ کر رکھا ہے۔یہ سن کر وہ شخص بہت شرمندہ ہوا اور باطنی سے توبہ کی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوئی بزرگ ہو گا جسے کشفی صورت میں اس شخص کے اندرونہ کا علم ہو گیا ہو گا۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قصہ محض نصیحت اور عبرت کے لئے وضع کیا گیا ہو۔784 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بندہ کو چاہئے کہ ہمیشہ اپنے خدا پر نیک ظن رکھے۔تمام غلط عقائد کی جڑ اللہ تعالے پر بدظنی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ ذلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِى ظَنَنتُم بِرَبِّكُمُ اَرْدَاكُمُ (حم السجده: (۲۴) یعنی اے کا فرو! تم نے جو بدظنی خدا پر کی اسی نے تم کو ہلاک کیا۔اسی طرح حدیث شریف میں آیا ہے آنا عِندَ ظَنِّ عَبْدِی بی۔یعنی خدا فرماتا ہے کہ جس طرح میرا بندہ میرے متعلق گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرتا ہوں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ حدیث نہایت وسیع المعانی اور لطیف المعانی ہے مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔785 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے فرمایا کہ بعض اوقات ہمارے اپنے دو آدمی ہمارے پاس آتے ہیں اور ان کا آپس میں