سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 65
سیرت المہدی 65 حصہ اوّل حالات پوچھیں۔چنانچہ حضور نے مجاور سے دریافت کیا۔اس نے کہا میں نے ان کو خود تو نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سو سال گذر گیا ہے۔ہاں اپنے باپ یا دادا سے سنا ہے کہ یہ اس علاقہ کے بڑے بزرگ تھے اور اس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔حضور نے پوچھا ان کا حلیہ کیا تھا ؟ وہ کہنے لگا کہ سنا ہے سانولہ رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں۔پھر ہم وہاں سے روانہ ہو کر قادیان پہنچ گئے۔خاکسار نے میاں عبداللہ صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت صاحب اس خلوت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے اور کس طرح عبادت کرتے تھے؟ میاں عبداللہ صاحب نے جواب دیا کہ یہ ہم کو معلوم نہیں کیونکہ آپ او پر بالا خانہ میں رہتے تھے اور ہم کو اوپر جانے کا حکم نہیں تھا۔کھانے وغیرہ کے لئے جب ہم اوپر جاتے تھے تو اجازت لے کر جاتے تھے۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب میں کھانا رکھنے او پر گیا تو حضور نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ بُورِكَ مَنْ فِيْهَا وَمَنْ حَوْلَهَا اور حضور نے تشریح فرمائی کہ مَنْ فِيْهَا سے میں مراد ہوں اور مَنْ حَوْلَهَا سے تم لوگ مراد ہو۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں تو سارا دن گھر میں رہتا تھا صرف جمعہ کے دن حضور کے ساتھ ہی باہر جاتا تھا اور شیخ حامد علی بھی اکثر گھر میں رہتا تھا لیکن فتح خان اکثر سارا دن ہی باہر رہتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اغلب ہے کہ اس الہام کے وقت بھی وہ باہر ہی ہو۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ فتح خان ان دنوں میں اتنا معتقد تھا کہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ حضرت صاحب کو تو میں نبی سمجھتا ہوں اور میں اس کی اس بات پر پرانے معروف عقیدہ کی بنا پر گھبرا تا تھا۔میاں عبداللہ صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو حضور نے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں۔89 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود بیت الفکر میں (مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے ) لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرم پت یا شاید لالہ ملا وامل نے دستک دی۔میں اُٹھ کر