سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 701
سیرت المہدی 701 حصہ سوم جیسا کہ ” نورافشاں“ میں لکھا گیا ہے صرف اب تک ۶۴ برس کی عمر ہے جو میری عمر سے صرف چھ یا سات برس زیادہ ہے۔ہاں اگر مسیح کی قدرت پر بھروسہ نہیں رہا۔۔۔۔۔مرنے کا قانونِ قدرت ہر ایک کے لئے مساوی ہے۔جیسا آتھم صاحب اس کے نیچے ہیں۔ہم بھی اس سے باہر نہیں اور جیسا کہ اس عالم کون وفساد کے اسباب ان کی زندگی پر اثر کر رہے ہیں۔ویسا ہی ہماری زندگی پر بھی مؤثر ہیں“۔(انوار الاسلام حاشیہ صفحہ ۳۶۔۳۷) پس میں سمجھتا ہوں۔کہ آتھم کے مقابلہ میں جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے۔وہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک موٹا دہا کوں کا اندازہ ہے۔اصل غرض آپ کی عمر کو معین کرنا نہیں۔بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ زندہ رکھنا اور مار نا خدا کے اختیار میں ہے اور قانونِ قدرت کے اثر کے لحاظ سے دونوں کی عمروں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔دوسرا امر جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد مقامات پر یہ تحریر فرمایا ہے کہ ”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی۔تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف فرمایا“ تریاق القلوب صفحه ۶۸ و براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۰۵ اور آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۸) لیکن جہاں تک مجھے علم ہے آپ نے یہ کہیں نہیں فرمایا۔سب سے پہلا الہام قریباً ۳۵ برس سے ہو چکا ہے۔یہ اندازہ لگانا کہ چونکہ اربعین ۱۹۰۰ء میں تالیف ہوئی۔اس لئے آپ کی پیدائش ۱۸۳۵ء میں ثابت ہوئی۔درست نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا۔کہ ثَمَانِينَ حَوْلًا والا الہام 66 سب سے پہلا الہام ہے اور نہ یہ کہ سب سے پہلا الہام۔۔۔۔۔چالیس برس کی عمر میں ہوا۔تیسرا امر یہ ہے کہ ایک کتاب کی کسی عبارت کو اس کتاب کی تاریخ اشاعت سے ملا کر نتیجہ نکالتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔کیونکہ عبارت کے لکھے جانے کی تاریخ اور کتاب کی تاریخ اشاعت میں بہت بڑا فرق ممکن ہے۔مثلاً نزول امسیح اگست ۱۹۰۹ء میں شائع ہوئی ہے لیکن اس کا صفحہ ۱۱۷۔اگست ۱۹۰۲ء میں لکھا گیا۔جیسا کہ اسی صفحہ پر لکھا ہے ” آج تک جو ۱۰ را گست ۱۹۰۲ ء ہے“۔البتہ اشتہارات اور ماہواری رسائل کی صورت اور ہے ان کی تاریخ اشاعت پر نتیجہ نکالنے میں غلطی کا کم احتمال ہے۔حقیقة الوحی