سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 61
سیرت المہدی 61 حصہ اوّل انگریزی طرز کی گرم قمیص بنوا کر لایا کرتے تھے۔آپ انہیں استعمال تو فرماتے تھے مگر انگریزی طرز کی کفوں کو پسند نہیں فرماتے تھے۔کیونکہ اول تو کفوں کے بٹن لگانے سے آپ گھبراتے تھے دوسرے بٹنوں کے کھولنے اور بند کرنے کا التزام آپ کے لئے مشکل تھا۔بعض اوقات فرماتے تھے کہ یہ کیا کان سے لٹکے رہتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لباس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا عام اصول یہ تھا کہ جس قسم کا کپڑ امل جاتا تھا پہن لیتے تھے۔مگر عموما انگریزی طریق لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو اسے اپنے لئے سادگی کے خلاف سمجھتے تھے دوسرے آپ ایسے لباس سے جو اعضاء کو جکڑا ہوار کھے بہت گھبراتے تھے۔گھر میں آپ کے لئے صرف ململ کے گرتے اور پگڑیاں تیار ہوتی تھیں۔باقی سب کپڑے عموما هدية آپ کو آجاتے تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری اس خدمت میں خاص امتیاز رکھتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود بعض اوقات کمر پر پڑکا بھی استعمال فرماتے تھے اور جب کبھی گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو کوٹ ضرور پہن کر آتے تھے۔اور ہاتھ میں عصار کھنا بھی آپ کی سنت ہے۔والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت صاحب کے واسطے ہر سال نصف تھان کے گرتے تیار کیا کرتی تھی لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی تھی میں نے پورے تھان کے گرتے تیار کئے۔حضرت صاحب نے مجھے کہا بھی کہ اتنے کرتے کیا کرنے ہیں مگر میں نے تیار کر لئے ان میں سے اب تک بہت سے گرتے بے پہنے میرے پاس رکھے ہیں۔1849 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن خوشبو لگاتے اور کپڑے بدلتے تھے۔85 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود جب کبھی مغرب کی نماز گھر میں پڑھاتے تھے تو اکثر سورہ یوسف کی وہ آیات پڑھتے تھے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں إِنَّمَا أَشْكُوا بَنِى وَحُزْنِى إِلَى اللهِ - (يوسف : ۸۷) خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی آواز میں بہت سوز اور دردتھا۔اور آپ کی قراءت ہر دار ہوتی تھی۔