سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 621
سیرت المہدی 621 حصہ سوم متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ایک جگہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ دن میں کم از کم ایک دفعہ تو انسان خدا کے حضور رولیا کرے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے لئے خلوت میں بیٹھ کر نعماء الہی کو یاد کرنا اور انبیاء و اولیاء کے حالات اور ان کی قربانیوں کو آنکھوں کے سامنے لانا خوب نسخہ ہے۔667 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے حضور کے ساتھ ریل میں سفر کرنے کا اتفاق نصیب ہوا۔جیسا کہ عام لوگ ریل میں سوار ہر کر باہر سے آنے والے مسافروں سے ترش روئی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔اس وقت بھی بعض اصحاب نے یہ رویہ اختیار کیا۔ان میں سے یہ ناچیز بھی تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسافر کے لئے جگہ خالی کر دی۔اور مجھے یوں مخاطب کیا کہ اخلاق دکھانے کا یہی موقعہ ہے۔اس پر میں بہت شرمسار ہوا۔یہ آپ کے اخلاق فاضلہ میں سے ایک عام مثال ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پنجابی میں ایک بڑی سچی مثل ہے کہ یا راہ پیا جانے یا وا پیا جانے یعنی کسی شخص کے اخلاق کی اصل حالت دو موقعوں پر ظاہر ہوتی ہے یا تو سفر میں جبکہ اکثر صورتوں میں انسان ننگا ہو جاتا ہے اور یا جب کسی شخص کے ساتھ معاملہ پڑے تو اس وقت انسان کی اغراض اُسے اصلی صورت میں ظاہر کر دیتی ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اصل اخلاق یہ ہیں کہ خرابی کی طرف کھینچنے والی طاقتیں موجود ہوں اور پھر انسان اچھے اخلاق پر قائم رہے مثلاً خیانت کے موقعے موجود ہوں اور پھر انسان دیانتدار رہے۔ورنہ عام حالات میں تو ہر شخص دیانتدار نظر آتا ہے۔ریل میں بھی یہی صورت پیش آتی ہے۔کہ چونکہ جگہ کی تنگی ہوتی ہے۔اس لئے لوگ اپنے آرام کی خاطر دوسرے مسافروں کے آنے پر بداخلاقی دکھاتے ہیں۔حالانکہ یہی اخلاق دکھانے کا موقعہ ہوتا ہے ورنہ کھلی جگہ کے ہوتے ہوئے دوسروں کی آؤ بھگت کرنا کوئی اعلیٰ خلق نہیں۔668 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان