سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 620 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 620

سیرت المہدی 620 حصہ سوم قادیان آیا اور یہاں وہ حضرت صاحب کو ہر روز مغرب و عشاء کے درمیان اپنی تفسیر سُنایا کرتا تھا اور داد چاہتا تھا۔جو جو باتیں اور عقائد اور اعتراض عبد الحکیم خاں نے مرتد ہوتے وقت بیان کئے ہیں وہ سب آجکل غیر مبایعین میں موجود ہیں۔دراصل ان لوگوں کو اس نے ہلاک کیا اور خود اس کو اس کی خواب بینی اور بلھی صفات نے ہلاک کیا۔چنانچہ ایک دفعہ ان لوگوں نے یہ تجویز پیش کی۔کہ ریویو میں حضرت صاحب کا اور احمدیت کی خصوصیات کا ذکر نہ ہو بلکہ عام اسلامی مضامین ہوں تا کہ اشاعت زیادہ ہو۔اخبار وطن میں بھی یہ تحریک چھپی تھی۔جس پر حضرت صاحب نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر کیا آپ مُردہ اسلام کو پیش کریں گے؟ عبدالحکیم خاں نے حضور کو لکھا تھا۔کہ آپ کا وجود خادمِ اسلام ہے نہ کہ عین اسلام۔مگر حضرت صاحب کے اس فقرہ نے اس کی تردید کر دی کہ دراصل آپ کا وجود ہی روح اسلام ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مسئلہ بہت باریک ہے کہ کسی مذہب میں اس مذہب کے لانے والے کے وجود کو کس حد تک اور کس رنگ میں داخل سمجھا جاسکتا ہے۔مگر بہر حال یہ ایک مسلّم صداقت ہے کہ نبی کے وجود سے مذہب کو جد انہیں کیا جاسکتا۔یہ دونوں باہم اس طرح پروئے ہوئے ہوتے ہیں جس طرح ایک کپڑے کا تانا اور بانا ہوتا ہے جن کے علیحدہ کرنے سے کپڑے کی تار پود بکھر جاتی ہے۔بے شک بعض خام طبع موحدین اسے شرک قرار دے سکتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال خود شرک میں داخل ہے کہ ایک خدائی فعل کے مقابلہ میں اپنے خیال کو مقدم کیا جائے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے۔کئی خوا میں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔666 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں اس عاجز نے نمازوں میں اور خصوصاً سجدوں میں لوگوں کو آجکل کی نسبت بہت زیادہ روتے سُنا ہے۔رونے کی آواز میں مسجد کے ہر گوشہ سے سُنائی دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے اپنی جماعت کے اس رونے کا فخر کے ساتھ ذکر کیا ہے۔جس نماز سے پہلے حضرت صاحب کی کوئی خاص تقریر اور نصیحت ہو جاتی تھی۔اس نماز میں تو مسجد میں گویا ایک گہرام برپا ہو جاتا تھا۔یہاں تک کہ سنگدل سے سنگدل آدمی بھی