سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 611 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 611

سیرت المہدی 611 حصہ سوم یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی خاص کشش ان کو کھینچ کر لائی ہے۔جہلم پہنچ کر تو حد ہی ہوگئی۔جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔لوگوں کے لئے حضرت صاحب کو دیکھنے کے واسطے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ حضرت کو ایک مکان کی چھت پر بٹھا دیا گیا ورنہ اور کوئی طریق اس وقت اختیار کرنا بوجہ اثر دہام کے ناممکن تھا۔اس سفر میں سید عبداللطیف صاحب شہید بھی حضرت کے ہمراہ تھے۔احاطہ کچہری میں مجھے سے حضور باتیں کر رہے تھے کہ عجب خان صاحب تحصیلدار نے فرط محبت سے حضور کی خدمت میں ہاتھ دینے کے لئے عرض کی حضور نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔عجب خان صاحب نے حضور کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔یہ سفر جہلم کرم دین جہلمی کے مقدمہ میں پیش آیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عجب خان صاحب تحصیلدار زیدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں۔افسوس کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد وہ خلافت سے منحرف ہو کر غیر مبایعین کے گروہ میں شامل ہو گئے تھے۔648 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جھاڑی بوٹی کے بیر ( کو کن بیر ) حضرت جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلل الانبیاء کی خدمت میں خاکسار نے تحفةً پیش کئے۔اس کے کچھ وقت بعد حضور تھوڑی دیر کے لئے لیٹے تو دائیں جانب شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم پاؤں دبا رہے تھے اور بائیں طرف خاکسار تھا۔خاکسار کا ہاتھ اتفاقا حضور کی جیب سے چھو گیا۔تو فرمایا۔یہ وہی بیر ہیں جو آپ میرے لئے لائے تھے۔میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں۔جب حضرت اقدس اندر تشریف لے گئے۔تو شیخ صاحب نے فرمایا۔بھئی تم بڑے خوش نصیب ہو۔کہیں سے مانگ کر ایک دھیلے کے بیر لائے ہو اور حضرت اقدس سے پروانہ خوشنودی حاصل کر لیا۔میں تو سات روپیہ کے انگور لایا تھا۔اس کا ذکر ہی نہیں ہوا۔میں نے عرض کی کہ آپ کو مطبوعہ سرٹیفیکیٹ ازالہ اوہام اور انجام آتھم میں مل چکا ہے اور خاکسار کو زبانی سرٹیفیکیٹ مل گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ہدیہ کی قبولیت اور اس پر خوشنودی کسی کے بس کی بات نہیں۔یہ دینے والے کی نیت اور اخلاص پر مبنی ہے۔جس میں ہدیہ کی قیمت کا کوئی دخل نہیں۔ویسے شیخ رحمت اللہ صاحب