سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 584 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 584

سیرت المہدی 584 حصہ سوم الہام کا ترجمہ ہے۔مؤلف ) جو کوئی مجھے پورے ظہور سے پہلے شناخت کرے اس کو خدا کی طرف سے اجر ہے۔اور جو کوئی آسمانی تائیدوں کے بعد میری طرف رغبت کرے وہ نا چیز ہے اور اس کی رغبت بھی ناچیز ہے اور مجھ کو حکومت وسلطنت اس جہاں سے کچھ سروکار نہیں۔میں غریب ہی آیا اور غریب ہی جاؤ نگا۔اور خدا کی طرف سے مامور ہوں کہ لطف اور نرمی سے اسلام کی سچائی کے دلائل اس پر آشوب زمانہ میں ہر ملک کے آدمیوں کے سامنے بیان کروں۔اسی طرح مجھے دولت برطانیہ اور اس کی حکومت کے ساتھ جس کے سایہ میں میں امن سے زندگی بسر کر رہا ہوں کوئی تعرض نہیں۔بلکہ خُدا کا شکر کرتا ہوں اور اس کی نعمت کا بجالاتا ہوں۔کہ ایسی پر امن حکومت میں مجھ کو دین کی خدمت پر مامور کیا۔اور میں کیونکر اس نعمت کا شکر ادا نہ کروں۔کہ باوجود اس غربت و بے کسی اور قوم کے نالائقوں کی شورش کے میں اطمینان کے ساتھ اپنے کام کو سلطنت انگلشیہ کے زیر سایہ کر رہا ہوں۔اور میں ایسا آرام پاتا ہوں کہ اگر اس سلطنت کا میں شکر ادا نہ کروں تو میں خدا کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔اگر ہم اس بات کو پوشیدہ رکھیں تو ظالم ٹھہرتے ہیں۔کہ جس طرح سے پادریان نصاری کو اپنے مذہب کی اشاعت میں آزادی ہے ایسی ہی آزادی ہم کو اسلام کی اشاعت میں حاصل ہے۔بلکہ اس آزادی کے فوائد ہمارے لئے زیادہ ہیں۔جس طرح کہ ہم اہلِ اسلام کو اس آزادی کے فوائد حاصل ہیں دوسروں کو وہ نصیب نہیں۔کیونکہ وہ باطل پر اور ہم حق پر ہیں۔اور چھوٹے آزادی سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔بلکہ اس آزادی سے ان کی پردہ دری زیادہ ہوتی ہے اور اس روشنی کے زمانہ میں ان کا مکر زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔پس یہ ہم پر خدا کا فضل ہے۔کہ ہمارے واسطے ایسی تقریب پیدا ہوئی۔اور یہ نعمت خاص ہم کو عطا ہوئی۔البتہ علماء نصاری کو اپنی قوم کی امداد سے لاکھوں رو پید اپنی انجیلوں اور جھوٹوں کے پھیلانے میں ملتے ہیں اور ہم کو کچھ نہیں ملتا۔اور ان کے مددگار ملک یورپ میں مور و ملخ کی طرح ہیں۔اور ہمارا سوائے خدا کے دوسرا کوئی مددگار نہیں۔پس اگر ہمارے کاروبار میں ناداری کے سبب کوئی حرج واقع ہو۔تو یہ دولت برطانیہ کا قصور نہیں۔بلکہ یہ ہماری اپنی قوم کا قصور ہے کہ دین کے کام میں غفلت کرتے ہیں۔اور بہت آدمی وقت امداد کو منافقانہ بہانوں اور جھوٹے ظنتوں سے اپنے سر سے دُور کرتے ہیں۔ہاں اپنے نگ و ناموس کے کاموں میں گھوڑوں کی طرح دوڑتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس زمانہ میں اسلام صد با